سندھ کی دھرتی، جو اپنی صوفیانہ روایات، مہمان نوازی اور محبت کی وجہ سے "باب الاسلام" کہلاتی ہے، بدقسمتی سے برسوں سے ایک ایسے ناسور کی لپیٹ میں ہے جس نے ہزاروں گھر اجاڑ دیے۔ یہ ناسور "قبائلی دشمنی" اور "خونی تصفیہ" کا ہے، جہاں معمولی تلخ کلامی یا ایک جانور کی چوری دیکھتے ہی دیکھتے خونی معرکے میں بدل جاتی ہے۔ حالیہ دنوں میں سندھ کے کچے اور پکے کے علاقوں سے ایک ایسی ہی لرزہ خیز کہانی سامنے آئی ہے، جہاں مبینہ طور پر ایک "بکری کی چوری" نے ایسی آگ بھڑکائی جس نے 48 انسانی جانوں کو نگل لیا۔ یہ محض ایک واقعہ نہیں بلکہ ہمارے معاشرے، پولیس کے نظام اور متوازی عدالتی نظام یعنی "جرگہ سسٹم" پر ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔ واقعے کا پس منظر: ایک بکری سے 48 لاشوں تک سندھ کے اضلاع شکارپور، کشمور اور گھوٹکی میں قبائلی دشمنیاں کوئی نئی بات نہیں، لیکن اس مخصوص واقعے نے سب کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ اس خونی تنازع کی ابتدا ایک معمولی چوری سے ہوئی، جس میں ایک قبیلے نے دوسرے قبیلے پر بکری چوری کرنے کا الزام لگایا۔ عمومی طور پر ایسے معام...
پاکستان میں حالیہ معاشی عدم استحکام، روپے کی قدر میں مسلسل کمی اور بڑھتی ہوئی مہنگائی نے عام شہریوں اور سرمایہ کاروں کو اپنے پیسے کی حفاظت کے لیے نئے راستے تلاش کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ جہاں روایتی طور پر سونا، ریئل اسٹیٹ اور امریکی ڈالر کو محفوظ سرمایہ کاری سمجھا جاتا تھا، وہیں حالیہ عرصے میں ایک دلچسپ اور قدرے غیر روایتی رجحان سامنے آیا ہے: ایرانی تومان (یا ریال) میں سرمایہ کاری۔ یہ بلاگ پوسٹ اس رجحان کی وجوہات، اس کے پیچھے چھپے معاشی حقائق اور اس سے وابستہ سنگین خطرات کا تفصیلی احاطہ کرے گی۔ پاکستانیوں کا ایرانی کرنسی کی طرف رغبت: وجوہات کیا ہیں؟ پہلی نظر میں یہ سوال اٹھتا ہے کہ ایک ایسی کرنسی جس کی اپنی عالمی قدر انتہائی کم ہے اور جو خود شدید پابندیوں کا شکار ہے، اس میں پاکستانی کیوں دلچسپی لے رہے ہیں؟ اس کی چند بنیادی وجوہات درج ذیل ہیں: 1. جغرافیائی قربت اور غیر رسمی تجارت پاکستان اور ایران کے درمیان ایک طویل سرحد (تقریباً 900 کلومیٹر) موجود ہے۔ بلوچستان کے سرحدی علاقوں میں ایرانی مصنوعات (پیٹرول، ڈیزل، خوردنی اشیاء) کی تجارت ایک عام بات ہے۔ اس تجارت کی وجہ سے ایرانی کرنسی کی ل...