انسانی تاریخ میں جب بھی توانائی کے بحران کا ذکر ہوتا ہے، تو سب سے پہلے ذہن میں "سولر پینلز" کا خیال آتا ہے۔ لیکن سولر انرجی کے ساتھ ہمیشہ سے ایک بڑا مسئلہ وابستہ رہا ہے: سورج غروب ہوتے ہی بجلی بننا بند ہو جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمیں بیٹریوں پر انحصار کرنا پڑتا ہے جو کہ مہنگی اور ماحول کے لیے کسی حد تک نقصان دہ بھی ہو سکتی ہیں۔ لیکن کیا ہو اگر میں آپ کو بتاؤں کہ اب رات کے اندھیرے میں بھی سورج کی تپش سے بجلی بنائی جا سکتی ہے؟ جی ہاں، یہ کوئی سائنس فکشن فلم کا منظر نہیں بلکہ جدید سائنس کا وہ معجزہ ہے جس نے حال ہی میں دنیا کو حیران کر دیا ہے۔ کیا ہے؟ اس ایجاد کا پس منظر Thermal Radiation عام سولر پینل سورج کی براہ راست روشنی (Photons) کو بجلی میں تبدیل کرتے ہیں۔ لیکن رات کے وقت جب سورج غائب ہوتا ہے، تو زمین وہ حرارت خارج کرنا شروع کر دیتی ہے جو اس نے دن بھر جذب کی ہوتی ہے۔ یہ حرارت انفراریڈ شعاعوں (Infrared Radiation) کی صورت میں خلا کی طرف جاتی ہے۔ سائنسدانوں نے اسی نکتے کو پکڑا۔ انہوں نے سوچا کہ اگر ہم ایسی ڈیوائس بنا لیں جو زمین سے نکلنے والی اس "غیر مرئی...
بیسویں صدی کے آغاز سے قبل کی دنیا آج کے مقابلے میں کہیں زیادہ پراسرار اور خطرناک تھی۔ اس دور میں مہم جوئی کا مطلب صرف سیاحت نہیں بلکہ اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر انجان وادیوں اور ممنوعہ خطوں کی خاک چھاننا تھا۔ جب ہم تاریخ کے اوراق پلٹتے ہیں، تو ایک ایسی شخصیت کا نام ابھرتا ہے جس کی زندگی کسی سنسنی خیز فلمی کہانی سے کم نہیں۔ یہ نام ہے سر رچرڈ فرانسس برٹن کا۔ رچرڈ برٹن محض ایک برطانوی فوجی یا مہم جو نہیں تھا، بلکہ وہ ایک بے مثل ماہرِ لسانیات، مترجم، جاسوس اور وہ پہلا غیر مسلم تھا جس نے کمالِ ہوشیاری سے مکہ اور مدینہ کی زیارت کی اور حجرِ اسود کو بوسہ دینے کا دعویٰ کیا۔ لسانیات کا جادوگر: 26 زبانوں پر عبور رچرڈ برٹن کی سب سے بڑی طاقت اس کی زبان دانی تھی۔ وہ ایک "پولی گلۆٹ" (Polyglot) تھا جسے نہ صرف زبانیں سیکھنے کا جنون تھا بلکہ وہ ان کے لہجوں اور ثقافتی باریکیوں کو بھی جذب کر لیتا تھا۔ زبانوں کا تنوع: برٹن کو اردو، فارسی، عربی، ہندی، سندھی، پنجابی، مرہٹی، اور کئی یورپی و افریقی زبانوں سمیت 26 زبانوں اور ان کے درجنوں لہجوں پر مکمل دسترس حاصل تھی۔ سندھ میں قیام: برٹن...