نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

’دی گریٹ گاما‘: ایک ناقابل شکست پہلوان کی کہانی جو دن میں چھ مرغے کھاتا اور 15 گھنٹے ورزش کرتا



برصغیر پاک و ہند کی مٹی نے ہمیشہ ایسے سپوتوں کو جنم دیا ہے جنہوں نے دنیا بھر میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ لیکن جب بات جسمانی طاقت، بے پناہ قوتِ ارادی اور کشتی کے میدان کی ہو، تو تاریخ میں ایک ایسا نام چمکتا ہے جس کی برابری کرنے والا آج تک پیدا نہیں ہو سکا۔ وہ نام ہے غلام محمد بخش، جنہیں دنیا ’دی گریٹ گاما‘ یا گاما پہلوان کے نام سے جانتی ہے۔

گاما پہلوان برصغیر کی تاریخ کے وہ واحد پہلوان ہیں جنہوں نے اپنی 52 سالہ طویل پہلوانی کے کیریئر میں ایک بھی کشتی نہیں ہاری۔ وہ اپنے وقت کے رستمِ ہند بھی تھے اور رستمِ زماں (ورلڈ چیمپئن) بھی۔ ان کی ناقابلِ یقین جسمانی طاقت، سخت ترین روزمرہ کا معمول اور حیرت انگیز خوراک آج بھی ایک افسانہ معلوم ہوتی ہے۔ آئیے اس عظیم اور ناقابلِ شکست پہلوان کی زندگی، ان کی محنت اور ان کے یادگار معرکوں پر تفصیل سے نظر ڈالتے ہیں۔

ابتدائی زندگی اور پہلوانی کا آغاز

گاما پہلوان 22 مئی 1878 کو پنجاب کے شہر امرتسر (موجودہ بھارت) میں پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق ایک ایسے کشمیری خاندان سے تھا جو نسل در نسل پہلوانی کے پیشے سے وابستہ تھا۔ ان کے والد عزیز بخش بھی ایک نامور پہلوان تھے، اس لیے پہلوانی گاما کے خون میں شامل تھی۔

یتیمی کا سایہ اور دتیا کے مہاراجہ کی سرپرستی

ابھی گاما کی عمر محض چھ سال تھی کہ ان کے والد کا انتقال ہو گیا۔ والد کی وفات کے بعد ان کی پرورش ان کے نانا نون پہلوان نے کی، اور ان کے انتقال کے بعد ان کے ماموں ایدا پہلوان نے گاما کی تربیت کا ذمہ اٹھایا۔

گاما پہلوان کی زندگی کا اصل موڑ اس وقت آیا جب ریاست دتیا (Datia) کے مہاراجہ بھوانی سنگھ نے اس کمسن بچے کی چھپی ہوئی صلاحیتوں کو بھانپ لیا۔ مہاراجہ نے گاما اور ان کے چھوٹے بھائی امام بخش کی سرپرستی اپنے ذمے لے لی اور ان کے لیے بہترین خوراک، رہائش اور تربیت کا انتظام کیا۔

دس سال کی عمر میں پہلا کارنامہ

گاما پہلوان نے اپنی زندگی کا پہلا عوامی مظاہرہ صرف دس سال کی عمر میں کیا۔ سنہ 1888 میں ریاست جودھپور میں برصغیر بھر کے پہلوانوں کے درمیان ایک بڑا مقابلہ منعقد ہوا، جس میں ورزش کی ایک کٹھن مشق 'بیٹھکیں' لگانے کا چیلنج رکھا گیا۔ اس مقابلے میں برصغیر کے نامور اور عمر دراز پہلوان شریک تھے۔

ننھے گاما نے اس مقابلے میں حصہ لیا اور مسلسل کئی گھنٹوں تک بیٹھکیں لگاتے رہے۔ جب مقابلے کا اختتام ہوا، تو گاما آخری چند پہلوانوں میں شامل تھے جو اب بھی بغیر رکے بیٹھکیں لگا رہے تھے۔ ان کی عمر اور بے پناہ ہمت کو دیکھتے ہوئے جودھپور کے مہاراجہ نے گاما کو اس مقابلے کا فاتح قرار دیا۔ اس مقابلے کی وجہ سے ان کے پورے جسم میں شدید درد ہوا اور وہ کئی دن تک بستر پر رہے، لیکن اس ایک واقعے نے انہیں پورے ہندوستان میں مشہور کر دیا۔

15 گھنٹے ورزش: لوہے کو پگھلانے والی محنت

گاما پہلوان کی ناقابلِ شکست رہنے کی سب سے بڑی وجہ ان کا وہ سخت ترین اور کٹھن معمول تھا جس کا تصور آج کا کوئی ایتھلیٹ یا باڈی بلڈر خواب میں بھی نہیں کر سکتا۔ وہ دن میں تقریباً 15 گھنٹے صرف اور صرف جسمانی مشقت اور ورزش کو دیتے تھے۔

روزانہ کا کٹھن شیڈول

گاما پہلوان کا دن صبح صادق سے بہت پہلے شروع ہو جاتا تھا۔ ان کی روزمرہ کی ورزش کو اگر حصوں میں تقسیم کیا جائے تو وہ کچھ اس طرح تھی:

[ گاما پہلوان کی روزانہ کی ورزش ]
┌─────────────────────────┴─────────────────────────┐
▼ ▼
[ صبح کا سیشن ] [ شام کا سیشن ]
5,000 بیٹھکیں اور اکھاڑے کی محنت 3,000 ڈنڈ (پش اپس) اور دیسی کشتی
  • صبح کا آغاز (بیٹھکیں): گاما پہلوان روزانہ صبح اکھاڑے میں اترنے سے پہلے 5,000 بیٹھکیں (Squats) لگاتے تھے۔ یہ بیٹھکیں وہ عام رفتار سے نہیں بلکہ ایک خاص تال اور رفتار کے ساتھ لگاتے تھے۔

  • دوپہر کا سیشن (ڈنڈ): دوپہر کے وقت وہ اپنے بازوؤں اور سینے کی طاقت بڑھانے کے لیے 3,000 ڈنڈ (Push-ups) لگاتے تھے۔

  • اکھاڑے کی کشتی: ورزش کے بعد وہ روزانہ اکھاڑے میں اپنے ساتھی پہلوانوں اور شاگردوں کے ساتھ کشتی لڑتے تھے۔ بتایا جاتا ہے کہ وہ روزانہ اکھاڑے میں پچاس سے زائد پہلوانوں کے ساتھ باری باری داؤ پیچ آزماتے تھے اور ان سب کو چت کرتے تھے۔

  • دوڑ اور بھاری پتھر اٹھانا: ان کی ورزش میں روزانہ کئی میل کی دوڑ شامل تھی، اور وہ اپنے گلے میں بھاری لوہے کا ہنسلی (ایک وزنی طوق) پہن کر دوڑتے تھے تاکہ گردن اور کندھوں کے پٹھے مضبوط رہیں۔

تاریخی حقیقت: گاما پہلوان کی طاقت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ سنہ 1902 میں، انہوں نے برصغیر کی ایک ریاست میں 1200 کلوگرام (ایک ٹن سے زیادہ) وزنی پتھر کو اپنے سینے تک اٹھایا اور اسے لے کر کچھ فاصلہ طے کیا۔ یہ پتھر آج بھی بھارت کے شہر بڑودہ (Vadodara) کے میوزیم میں رکھا ہوا ہے، جسے جدید دور کی کرینوں کی مدد سے منتقل کیا گیا تھا۔

شاہی خوراک: چھ مرغے اور پندرہ کلو دودھ

اس قدر شدید اور غیر انسانی ورزش کے لیے جسم کو اتنی ہی بھاری مقدار میں ایندھن اور توانائی کی ضرورت ہوتی تھی۔ گاما پہلوان کی خوراک کوئی عام انسان ہضم نہیں کر سکتا تھا، بلکہ یہ ایک شاہی اور دیومالائی خوراک تھی۔ ان کی روزانہ کی خوراک کا خرچہ اس وقت کے مہاراجہ اٹھاتے تھے۔

روزانہ کا مینو (Diet Plan)

گاما پہلوان کی روزانہ کی خوراک درج ذیل اشیاء پر مشتمل ہوتی تھی:

  • چھ دیسی مرغے: وہ روزانہ چکن کڑھائی یا فرائیڈ چکن نہیں کھاتے تھے، بلکہ دیسی مرغوں کو ابال کر ان کا جوشاندہ (Yakhni) پیتے تھے تاکہ پٹھوں کو فوری پروٹین ملے۔

  • 15 کلو گرام خالص دودھ: وہ دن بھر میں پندرہ کلو گرام گائے یا بھینس کا خالص دودھ پیتے تھے، جس میں باداموں کا پیسٹ شامل کیا جاتا تھا۔

  • تین پاؤنڈ بادام کا مغز: روزانہ باداموں کو خاص طریقے سے سل بٹے پر پیس کر ان کی سردائی یا تھولی بنائی جاتی تھی جو دودھ میں ملا کر پئی جاتی تھی۔

  • مکھن اور پھلوں کا رس: ان کی خوراک میں آدھ کلو خالص دیسی مکھن، موسمی پھلوں کا ٹوکرا اور دیگر مقوی اعصاب جڑی بوٹیاں شامل ہوتی تھیں۔

یہ خوراک ان کے ہاضمے کی پائیداری اور پٹھوں کی مضبوطی کا راز تھی۔ گاما پہلوان کا نظامِ ہاضمہ اتنا قوی تھا کہ وہ اس بھاری خوراک کو چند گھنٹوں کی ورزش میں پسینے کی شکل میں بہا دیتے تھے۔

رستمِ ہند کا معرکہ: رحیم بخش سلطانی والا سے مقابلہ

جب گاما پہلوان جوان ہوئے تو ہندوستان میں ان کی دھاک بیٹھ چکی تھی۔ لیکن ایک پہلوان ایسا تھا جو ان کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ تھا، اور وہ تھے رحیم بخش سلطانی والا۔ رحیم بخش اپنے وقت کے رستمِ ہند تھے اور عمر اور تجربے میں گاما سے بہت بڑے تھے۔ ان کا قد تقریباً 7 فٹ تھا جبکہ گاما پہلوان کا قد 5 فٹ 7 انچ تھا۔

تاریخ ساز کشتیاں

گاما اور رحیم بخش کے درمیان زندگی میں تین بڑے مقابلے ہوئے۔ ان کا پہلا مقابلہ سنہ 1895 میں ہوا، جب گاما کی عمر محض 17 یا 18 سال تھی۔

مقابلہ نمبرمقامنتیجہتفصیلات
1جودھپوربرابر (Draw)یہ کشتی مسلسل 3 گھنٹے جاری رہی۔ رحیم بخش کے قد اور تجربے کے باوجود نوجوان گاما نے انہیں چت نہیں ہونے دیا اور کشتی بغیر کسی نتیجے کے ختم ہوئی۔
2لاہوربرابر (Draw)دوسری کشتی بھی گھنٹوں جاری رہنے کے بعد برابری پر ختم ہوئی، جس نے گاما کو برصغیر کا سب سے بڑا چیلنجر بنا دیا۔
3الٰہ آباد (1910)گاما پہلوان کامیابیہ ان کے کیریئر کا فیصلہ کن معرکہ تھا۔ گاما نے اپنی بے پناہ لچک اور رفتار کی بدولت رحیم بخش کو شکست دی اور باقاعدہ رستمِ ہند کا خطاب پایا۔

گاما پہلوان خود اعتراف کرتے تھے کہ ان کے پورے کیریئر میں اگر کسی پہلوان نے انہیں واقعی اکھاڑے میں مشکل وقت دیا، تو وہ صرف رحیم بخش سلطانی والا تھے۔

انگلستان کا سفر اور 'رستمِ زماں' بننے کی کہانی

رستمِ ہند بننے کے بعد گاما پہلوان کے ماموں اور ان کے سرپرستوں نے فیصلہ کیا کہ اب گاما کو دنیا فتح کرنی چاہیے۔ سنہ 1910 میں گاما پہلوان اپنے بھائی امام بخش اور چند دیگر پہلوانوں کے ساتھ لندن روانہ ہوئے تاکہ بین الاقوامی سطح پر کشتیوں میں حصہ لے سکیں۔

مغربی پہلوانوں کا تکبر اور گاما کا کھلا چیلنج

جب گاما پہلوان لندن پہنچے، تو وہاں کے منتظمین نے ان کا کم قد (5 فٹ 7 انچ) دیکھ کر انہیں ورلڈ چیمپیئن شپ کے مقابلوں میں شامل کرنے سے انکار کر دیا۔ مغربی دنیا کے لیے پہلوان کا مطلب 6 فٹ سے بلند قامت کا دیو ہیکل انسان ہوتا تھا۔

اس توہین کا جواب گاما پہلوان نے ایک تاریخی چیلنج کے ذریعے دیا۔ انہوں نے لندن کے ایک تھیٹر میں کھڑے ہو کر یہ کھلا چیلنج دیا:

"میں لندن کے کسی بھی پہلوان کو، چاہے وہ کسی بھی وزن کا ہو، صرف 5 منٹ کے اندر اکھاڑے میں چت کرنے کا دعویٰ کرتا ہوں۔ اگر میں ایسا نہ کر سکا، تو میں اپنے وطن واپس لوٹ جاؤں گا اور چیلنج جیتنے والے کو انعام کی رقم بھی دوں گا۔"

بینجمن رولر کی شکست

اس چیلنج کو سب سے پہلے امریکہ کے مشہور پہلوان بینجمن رولر (Benjamin Roller) نے قبول کیا۔ رولر کو یقین تھا کہ وہ اس ہندوستانی پہلوان کو آسانی سے ہرا دیں گے۔ لیکن جیسے ہی کشتی شروع ہوئی، گاما پہلوان نے پہلے ہی منٹ میں رولر کو زمین پر پچھاڑ دیا۔ یہ مقابلہ دو حصوں پر مشتمل تھا؛ دوسرے حصے میں گاما نے رولر کو صرف 9 منٹ اور چند سیکنڈ میں دوبارہ چت کر دیا۔ اس فتح نے پورے یورپ میں سنسنی پھیلا دی۔ اس کے بعد گاما نے ایک ہی دن میں باری باری 12 نامور یورپی پہلوانوں کو شکست دے کر مغربی دنیا کا تکبر خاک میں ملا دیا۔

گاما بمقابلہ اسٹینلس زبیسکو: دنیا کی سب سے بڑی کشتی

بینجمن رولر اور دیگر پہلوانوں کو شکست دینے کے بعد، اب گاما پہلوان کا سامنا اس وقت کے ورلڈ چیمپئن اسٹینلس زبیسکو (Stanislaus Zbyszko) سے ہونا تھا، جن کا تعلق پولینڈ سے تھا۔ زبیسکو دنیا کے سب سے ذہین اور طاقتور پہلوانوں میں شمار کیے جاتے تھے۔

10 ستمبر 1910: لندن کا تاریخی معرکہ

یہ کشتی دنیا کی تاریخ کی سب سے مشہور کشتیوں میں سے ایک ہے۔ جیسے ہی ریفری نے سیٹی بجائی، گاما پہلوان نے اپنی روایتی پھرتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے زبیسکو پر حملہ کیا اور صرف ایک منٹ کے اندر انہیں زمین پر گرا دیا۔

زبیسکو نے جب دیکھا کہ وہ طاقت اور داؤ پیچ میں گاما کا مقابلہ نہیں کر سکتے، تو انہوں نے ایک عجیب حکمتِ عملی اپنائی۔ وہ اکھاڑے کی مٹی پر پیٹ کے بل لیٹ گئے اور اپنے جسم کو زمین کے ساتھ چبکا لیا۔ کشتی کا قانون تھا کہ جب تک مخالف کے دونوں کندھے زمین پر نہ لگیں، اسے ہارا ہوا نہیں مانا جاتا۔

[ زبیسکو کی دفاعی حکمتِ عملی ] ──► مٹی پر پیٹ کے بل لیٹ جانا
│ (مسلسل 2 گھنٹے 40 منٹ)
[ گاما پہلوان کی کوشش ] ──► کندھے زمین پر لگانے کی جدوجہد

زبیسکو مسلسل دو گھنٹے اور چالیس منٹ تک اسی دفاعی پوزیشن میں لیٹے رہے۔ گاما نے انہیں اٹھانے اور سیدھا کرنے کی ہر ممکن کوشش کی، لیکن زبیسکو نے اکھاڑا نہیں چھوڑا۔ وقت ختم ہونے کی وجہ سے یہ کشتی برابری پر ختم کر دی گئی اور اگلے مقابلے کی تاریخ طے کی گئی۔

زبیسکو کا اکھاڑے سے فرار

اگلے ہفتے جب دوبارہ مقابلہ ہونا تھا، تو اسٹینلس زبیسکو گاما پہلوان کے خوف سے اکھاڑے میں حاضر ہی نہیں ہوئے اور خاموشی سے لندن چھوڑ کر چلے گئے۔ منتظمین نے گاما پہلوان کو بائی ڈیفالٹ فاتح قرار دیا، اور اس طرح گاما پہلوان باقاعدہ ’رستمِ زماں‘ (John Bull World Championship Title) کے تاجدار بن گئے۔

سنہ 1928 میں، زبیسکو نے اپنی ہار کا بدلہ لینے کے لیے پٹیالہ (ہندوستان) کا رخ کیا، جہاں گاما اور ان کے درمیان دوبارہ کشتی کا انتظام کیا گیا۔ اس وقت گاما پہلوان کی عمر 50 سال کے قریب تھی۔ لیکن اس بار گاما نے زبیسکو کو کوئی موقع نہیں دیا۔ انہوں نے زبیسکو کو صرف 42 سیکنڈ میں چت کر کے دنیا کو دکھا دیا کہ عمر گاما کی طاقت کو کم نہیں کر سکی۔ زبیسکو نے کشتی کے بعد گاما کو 'ٹائیگر' کا خطاب دیا اور اعتراف کیا کہ وہ دنیا کے سب سے عظیم پہلوان ہیں۔

تقسیمِ ہند اور انسانیت کی حفاظت کا جذبہ

سنہ 1947 میں جب برصغیر پاک و ہند کی تقسیم ہوئی، تو گاما پہلوان نے پاکستان آنے کا فیصلہ کیا اور لاہور کے مشہور علاقے 'موہنی روڈ' پر سکونت اختیار کی۔

تقسیم کے وقت پورے ملک میں شدید فرقہ وارانہ فسادات پھوٹ پڑے تھے۔ لاہور میں بھی ہندو اور مسلم سکھ فسادات عروج پر تھے۔ موہنی روڈ پر بڑی تعداد میں ہندو خاندان آباد تھے، اور مشتعل ہجوم نے ان پر حملہ کرنے کی کوشش کی۔

تنہا ہجوم کے سامنے کھڑے ہونا

جب گاما پہلوان کو معلوم ہوا کہ ان کے پڑوسی ہندوؤں کی جان خطرے میں ہے، تو وہ اپنے بھائی امام بخش اور اپنے اکھاڑے کے چند پہلوانوں کے ساتھ اکھاڑے کی لاٹھیاں لے کر گلی کے مرو ماتھے پر کھڑے ہو گئے۔ جب مشتعل ہجوم وہاں پہنچا، تو گاما پہلوان نے گرج دار آواز میں کہا:

"یہ ہندو میرے پڑوسی ہیں، اور ان کی حفاظت میری ذمہ داری ہے۔ جو کوئی ان تک پہنچنا چاہتا ہے، اسے پہلے گاما کی لاش سے گزرنا ہوگا ہ۔"

گاما پہلوان کی ہیبت اور عزت اتنی زیادہ تھی کہ کسی کی ہمت نہ ہوئی کہ وہ ایک قدم بھی آگے بڑھا سکے۔ انہوں نے نہ صرف ہجوم کو واپس بھیجا، بلکہ اپنی جیب سے پیسے خرچ کر کے ان ہندو خاندانوں کو باحفاظت سرحد تک پہنچایا۔ ان کا یہ کارنامہ ثابت کرتا ہے کہ وہ نہ صرف جسمانی طور پر مضبوط تھے بلکہ ان کا دل بھی انسانیت کے جذبے سے سرشار تھا۔

آخری ایام اور گاما پہلوان کی میراث

زندگی بھر دنیا بھر کے پہلوانوں کو چت کرنے والے گاما پہلوان اپنے آخری ایام میں بیماری اور غربت کے داؤ پیچ کے سامنے بے بس ہو گئے۔ عمر کے آخری حصے میں وہ دل کے عارضے اور دمہ کی بیماری میں مبتلا ہو گئے۔

پاکستان بننے کے بعد ابتدائی طور پر حکومت نے ان کی طرف وہ توجہ نہ دی جس کے وہ مستحق تھے۔ ان کے علاج کے لیے ان کے سونے کے تمغے اور ٹرافیاں تک فروخت کرنی پڑیں۔ تاہم، بعد میں حکومتِ پاکستان اور دنیا بھر کے مداحوں کی طرف سے ان کے لیے وظیفہ مقرر کیا گیا، لیکن تب تک ان کی صحت کافی حد تک گر چکی تھی۔

23 مئی 1960 کو یہ عظیم اور ناقابلِ شکست رستمِ زماں لاہور میں اس دارِ فانی سے کوچ کر گیا۔ انہیں لاہور کے پیر مکی قبرستان (نزد داتا دربار) میں سپردِ خاک کیا گیا۔

بروس لی کے رول ماڈل

گاما پہلوان کی میراث صرف برصغیر تک محدود نہیں رہی۔ دنیا کے مشہور ترین مارشل آرٹسٹ اور اداکار بروس لی (Bruce Lee) گاما پہلوان کے بہت بڑے مداح تھے۔ بروس لی نے گاما پہلوان کی ورزش کے طریقے، خصوصاً ان کی بیٹھکیں اور ڈنڈ لگانے کے انداز کا گہرا مطالعہ کیا تھا اور انہیں اپنے فٹنس ٹریننگ پروگرام کا حصہ بنایا تھا۔

نتیجہ (Conclusion)

دی گریٹ گاما کی کہانی صرف پٹھوں کی طاقت اور کشتی جیتنے کی کہانی نہیں ہے، بلکہ یہ مستقل مزاجی، کٹھن محنت، نظم و ضبط اور اصول پسندی کی ایک روشن مثال ہے۔ دن میں 15 گھنٹے ورزش کرنا اور 52 سال تک ناقابلِ شکست رہنا کوئی معجزہ نہیں تھا، بلکہ یہ ان کی اس تپش کا نتیجہ تھا جو انہوں نے اکھاڑے کی مٹی میں جل کر برداشت کی تھی۔

آج کے دور میں جب نوجوان شارٹ کٹ، سپلیمنٹس اور مصنوعی طریقوں سے جسم بنانے کی کوشش کرتے ہیں، گاما پہلوان کی زندگی ہمیں یاد دلاتی ہے کہ اصل اور پائیدار طاقت صرف دیسی خوراک، قدرتی طرزِ زندگی اور خون پسینہ بہانے سے ہی حاصل ہوتی ہے۔ گاما پہلوان کل بھی برصغیر کا فخر تھے اور ہمیشہ رہیں گے۔ 

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

پنجاب آرازی ریکارڈ سنٹرز کے پتے اور رابطہ نمبر (ARC's) Punjab Arazi Record Centers addresses and contact numbers

  (ARC's) ارازی ریکارڈ  سنٹرز کی تفصیلات پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی (PLRA) صوبے بھر میں تحصیل سطح پر اپنے 151 اراضی ریکارڈ سنٹرز، 59 قانونگوئی آرازی ریکارڈ سینٹرز (QARC's) اور 20 موبائل اراضی ریکارڈ سینٹرز (MARC's) کے ذریعے خدمات فراہم کر رہی ہے۔ ضلع حافظ آباد اے آر سی، تحصیل حافظ آباد ڈسٹرکٹ کورٹس کمپلیکس، ضلع حافظ آباد (042)-99093000 Ext: 58310 اے آر سی، تحصیل پنڈی بھٹیاں تحصیل کمپلیکس کی نئی عمارت، نزد جوڈیشل کمپلیکس، ضلع حافظ آباد (042)-99093000 Ext: 58210 اے آر سی، تحصیل حافظ آباد ونیکی تارڑ، یونائن کونسل آفس وانکی تارڑ، ضلع حافظ آباد (042)-99093000 Ext: 58110 قانونگوئی (جالاپور بھٹیاں)  اے آر سی یونین کونسل آفس دیہی علاقہ، بند روڈ، وزیرآباد روڈ، جلال پور بھٹیاں تحصیل پنڈی بھٹیاں، ضلع حافظ آباد ضلع بہاولپور بہاولپور سٹی ، کالی پلی سٹاپ ریسکیو 1122 آفس کے قریب، ائیرپورٹ روڈ، ضلع بہاولپور (042)-99093000 Ext: 62310 بہاولپور صدر نزد بغداد الجدید پولیس اسٹیشن، ائیرپورٹ روڈ، ضلع بہاولپور (042)-99093000 Ext: 62210 اے آر سی، تحصیل حاصل پور نزد پی ٹی سی ایل ایکسچینج، ضلع ب...

رمضان 2026: سب سے چھوٹے اور طویل ترین روزے کہاں ہیں؟

رمضان 2026: سب سے چھوٹے اور طویل ترین روزے کہاں ہیں؟ دنیا بھر میں رمضان المبارک کی آمد آمد ہے اور مسلمان بدھ (18 فروری) یا جمعرات (19 فروری) کو اپنا روزہ شروع کریں گے۔ تاریخیں اس بات پر منحصر ہوتی ہیں کہ آپ دنیا کے کس حصے میں رہتے ہیں۔ رمضان اسلامی کیلنڈر کا نواں مہینہ ہے اور مسلمانوں کے لیے اس کی بے حد اہمیت ہے۔ ہر سال لاکھوں مسلمان طلوعِ آفتاب سے غروبِ آفتاب تک روزہ رکھتے ہیں۔ اسلام میں روزہ ہجری کے دوسرے سال، یعنی پیغمبر اسلام کی مکہ سے مدینہ ہجرت کے دوسرے سال فرض کیا گیا۔ اس کے بعد سے دنیا بھر کے مسلمان اس عبادت کو ادا کر رہے ہیں۔ رمضان کا آغاز قمری کیلنڈر کے مطابق ہوتا ہے، اسی لیے گریگورین کیلنڈر میں اس کی تاریخ ہر سال تقریباً 11 دن پہلے آ جاتی ہے۔ جغرافیہ روزے کی مدت کو کیسے متاثر کرتا ہے؟ دن کے اجالے کے اوقات ہر مقام پر مختلف ہوتے ہیں اور یہ خطِ استوا سے فاصلے پر منحصر ہوتے ہیں۔ اس وقت جنوبی نصف کرہ میں موسمِ گرما ہے، اس لیے: دن لمبے ہیں راتیں چھوٹی ہیں ➡️ نتیجتاً روزے طویل ہوتے ہیں جبکہ شمالی نصف کرہ میں موسمِ سرما ہے: دن چھوٹے ہیں راتیں لمبی ہیں ➡️ روزے ن...

بناسپتی برانڈ ’ڈالڈا‘ کے مالک بشیر جان: اکاؤنٹنٹ سے ارب پتی بننے تک کا غیر معمولی سفر

پاکستان میں خوردنی تیل کی صنعت ایک بہت بڑی اور منافع بخش مارکیٹ بن چکی ہے، اور اس شعبے کا سب سے نمایاں اور طاقتور نام ایک ایسے شخص سے جڑا ہے جو نہ کسی روایتی سیٹھ گھرانے سے تعلق رکھتا ہے اور نہ ہی اس کا پس منظر کسی بڑے کاروباری خاندان سے ملتا ہے۔ یہ کہانی ہے بشیر جان محمد کی، جنہوں نے ایک عام اکاؤنٹنٹ کے طور پر کیریئر کا آغاز کیا اور بالآخر پاکستان کے ارب پتی کاروباری شخصیات میں شمار ہونے لگے۔ یہ ایک حیران کن حقیقت ہے کہ پاکستان میں خوردنی تیل کے کاروبار میں سب سے بڑا نام بننے والے بشیر جان محمد نے ابتدا میں کبھی بڑے کاروباری خواب نہیں دیکھے تھے۔ ان کی پیشہ ورانہ زندگی کا آغاز اکاؤنٹس ڈیپارٹمنٹ سے ہوا، مگر مستقل مزاجی، درست فیصلوں اور وقت پر ملنے والے مواقع نے ان کی زندگی کا رخ ہمیشہ کے لیے بدل دیا۔ ہجرت، جدوجہد اور نئی زندگی کا آغاز بشیر جان محمد کی پیدائش بھارت کے صوبہ گجرات کے ایک چھوٹے سے شہر بانٹوا میں ہوئی۔ قیام پاکستان کے بعد ان کا خاندان گجرات چھوڑ کر کراچی منتقل ہوا۔ تقسیم ہند کا وہ دور شدید بدامنی اور خوف سے بھرا ہوا تھا۔ بشیر جان کے مطابق، ان کے خاندان کو آخری لمحوں میں ...