برصغیر پاک و ہند کی مٹی نے ہمیشہ ایسے سپوتوں کو جنم دیا ہے جنہوں نے دنیا بھر میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ لیکن جب بات جسمانی طاقت، بے پناہ قوتِ ارادی اور کشتی کے میدان کی ہو، تو تاریخ میں ایک ایسا نام چمکتا ہے جس کی برابری کرنے والا آج تک پیدا نہیں ہو سکا۔ وہ نام ہے غلام محمد بخش ، جنہیں دنیا ’دی گریٹ گاما‘ یا گاما پہلوان کے نام سے جانتی ہے۔ گاما پہلوان برصغیر کی تاریخ کے وہ واحد پہلوان ہیں جنہوں نے اپنی 52 سالہ طویل پہلوانی کے کیریئر میں ایک بھی کشتی نہیں ہاری۔ وہ اپنے وقت کے رستمِ ہند بھی تھے اور رستمِ زماں (ورلڈ چیمپئن) بھی۔ ان کی ناقابلِ یقین جسمانی طاقت، سخت ترین روزمرہ کا معمول اور حیرت انگیز خوراک آج بھی ایک افسانہ معلوم ہوتی ہے۔ آئیے اس عظیم اور ناقابلِ شکست پہلوان کی زندگی، ان کی محنت اور ان کے یادگار معرکوں پر تفصیل سے نظر ڈالتے ہیں۔ ابتدائی زندگی اور پہلوانی کا آغاز گاما پہلوان 22 مئی 1878 کو پنجاب کے شہر امرتسر (موجودہ بھارت) میں پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق ایک ایسے کشمیری خاندان سے تھا جو نسل در نسل پہلوانی کے پیشے سے وابستہ تھا۔ ان کے والد عزیز بخش بھی ایک نامور پہ...