نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

پی آئی اے کی پرواز 544 کی ہائی جیکنگ


 
24 مئی 1998 کو پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز (پی آئی اے) کی پرواز 544 کو بلوچستان کے تربت سے ٹیک آف کے فوراً بعد تین مسلح افراد نے ہائی جیک کر لیا۔ ہائی جیکرز، جن کی بعد میں شناخت بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے ارکان کے طور پر ہوئی، نے طیارے کو بھارت بھیجنے کا مطالبہ کیا۔ پائلٹ عزیر خان نے بڑی چالاکی سے ہائی جیکروں کو ان کی ہدایات پر عمل کرنے کا بہانہ کرتے ہوئے چالان کیا اور خفیہ طور پر ایئر ٹریفک کنٹرول کو آگاہ کیا۔ طیارے کو بالآخر حیدرآباد ایئرپورٹ پر اتارا گیا، جہاں پاکستانی حکام نے ہائی جیکروں کو پکڑ لیا۔

پس منظر

ہائی جیکنگ 11-13 مئی 1998 کو بھارت کے جوہری تجربات کے بعد پاکستان اور بھارت کے درمیان شدید کشیدگی کے تناظر میں ہوئی۔

محرکات

ہائی جیکرز کے مطالبات میں پاکستان کو جوہری تجربات کرنے سے روکنا اور بعض افراد کی رہائی کو یقینی بنانا شامل تھا۔ تاہم، ان کا بنیادی مقصد پاکستانی حکومت پر اپنا جوہری پروگرام ترک کرنے کے لیے دباؤ ڈالنا تھا۔

مابعد

تینوں ہائی جیکروں پر بعد میں مقدمہ چلایا گیا اور انہیں موت کی سزا سنائی گئی۔ انہیں 28 مئی 2015 کو پاکستان کے جوہری تجربات کے ٹھیک 17 سال بعد پھانسی دے دی گئی۔

پاکستان کے نیوکلیئر ٹیسٹ


پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے رکن ڈاکٹر ثمر مبارک نے انکشاف کیا کہ پاکستان کے جوہری تجربات بھارت کے تجربات کا جواب ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کے 1974 کے جوہری تجربے کے بعد پاکستان کے جوہری پروگرام میں تیزی آئی تھی اور اس ملک نے جوہری ہتھیار تیار کرنے کا عہد کیا تھا۔
آرٹیکل سے پتہ چلتا ہے کہ پی آئی اے کی پرواز 544 کو ہائی جیک کرنا پاکستان کے جوہری پروگرام کو متاثر کرنے کی ایک کوشش تھی، لیکن بالآخر اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہی۔

یہاں کلک کرکے مزید پڑھیں

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

پنجاب آرازی ریکارڈ سنٹرز کے پتے اور رابطہ نمبر (ARC's) Punjab Arazi Record Centers addresses and contact numbers

  (ARC's) ارازی ریکارڈ  سنٹرز کی تفصیلات پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی (PLRA) صوبے بھر میں تحصیل سطح پر اپنے 151 اراضی ریکارڈ سنٹرز، 59 قانونگوئی آرازی ریکارڈ سینٹرز (QARC's) اور 20 موبائل اراضی ریکارڈ سینٹرز (MARC's) کے ذریعے خدمات فراہم کر رہی ہے۔ ضلع حافظ آباد اے آر سی، تحصیل حافظ آباد ڈسٹرکٹ کورٹس کمپلیکس، ضلع حافظ آباد (042)-99093000 Ext: 58310 اے آر سی، تحصیل پنڈی بھٹیاں تحصیل کمپلیکس کی نئی عمارت، نزد جوڈیشل کمپلیکس، ضلع حافظ آباد (042)-99093000 Ext: 58210 اے آر سی، تحصیل حافظ آباد ونیکی تارڑ، یونائن کونسل آفس وانکی تارڑ، ضلع حافظ آباد (042)-99093000 Ext: 58110 قانونگوئی (جالاپور بھٹیاں)  اے آر سی یونین کونسل آفس دیہی علاقہ، بند روڈ، وزیرآباد روڈ، جلال پور بھٹیاں تحصیل پنڈی بھٹیاں، ضلع حافظ آباد ضلع بہاولپور بہاولپور سٹی ، کالی پلی سٹاپ ریسکیو 1122 آفس کے قریب، ائیرپورٹ روڈ، ضلع بہاولپور (042)-99093000 Ext: 62310 بہاولپور صدر نزد بغداد الجدید پولیس اسٹیشن، ائیرپورٹ روڈ، ضلع بہاولپور (042)-99093000 Ext: 62210 اے آر سی، تحصیل حاصل پور نزد پی ٹی سی ایل ایکسچینج، ضلع ب...

رمضان 2026: سب سے چھوٹے اور طویل ترین روزے کہاں ہیں؟

رمضان 2026: سب سے چھوٹے اور طویل ترین روزے کہاں ہیں؟ دنیا بھر میں رمضان المبارک کی آمد آمد ہے اور مسلمان بدھ (18 فروری) یا جمعرات (19 فروری) کو اپنا روزہ شروع کریں گے۔ تاریخیں اس بات پر منحصر ہوتی ہیں کہ آپ دنیا کے کس حصے میں رہتے ہیں۔ رمضان اسلامی کیلنڈر کا نواں مہینہ ہے اور مسلمانوں کے لیے اس کی بے حد اہمیت ہے۔ ہر سال لاکھوں مسلمان طلوعِ آفتاب سے غروبِ آفتاب تک روزہ رکھتے ہیں۔ اسلام میں روزہ ہجری کے دوسرے سال، یعنی پیغمبر اسلام کی مکہ سے مدینہ ہجرت کے دوسرے سال فرض کیا گیا۔ اس کے بعد سے دنیا بھر کے مسلمان اس عبادت کو ادا کر رہے ہیں۔ رمضان کا آغاز قمری کیلنڈر کے مطابق ہوتا ہے، اسی لیے گریگورین کیلنڈر میں اس کی تاریخ ہر سال تقریباً 11 دن پہلے آ جاتی ہے۔ جغرافیہ روزے کی مدت کو کیسے متاثر کرتا ہے؟ دن کے اجالے کے اوقات ہر مقام پر مختلف ہوتے ہیں اور یہ خطِ استوا سے فاصلے پر منحصر ہوتے ہیں۔ اس وقت جنوبی نصف کرہ میں موسمِ گرما ہے، اس لیے: دن لمبے ہیں راتیں چھوٹی ہیں ➡️ نتیجتاً روزے طویل ہوتے ہیں جبکہ شمالی نصف کرہ میں موسمِ سرما ہے: دن چھوٹے ہیں راتیں لمبی ہیں ➡️ روزے ن...

بناسپتی برانڈ ’ڈالڈا‘ کے مالک بشیر جان: اکاؤنٹنٹ سے ارب پتی بننے تک کا غیر معمولی سفر

پاکستان میں خوردنی تیل کی صنعت ایک بہت بڑی اور منافع بخش مارکیٹ بن چکی ہے، اور اس شعبے کا سب سے نمایاں اور طاقتور نام ایک ایسے شخص سے جڑا ہے جو نہ کسی روایتی سیٹھ گھرانے سے تعلق رکھتا ہے اور نہ ہی اس کا پس منظر کسی بڑے کاروباری خاندان سے ملتا ہے۔ یہ کہانی ہے بشیر جان محمد کی، جنہوں نے ایک عام اکاؤنٹنٹ کے طور پر کیریئر کا آغاز کیا اور بالآخر پاکستان کے ارب پتی کاروباری شخصیات میں شمار ہونے لگے۔ یہ ایک حیران کن حقیقت ہے کہ پاکستان میں خوردنی تیل کے کاروبار میں سب سے بڑا نام بننے والے بشیر جان محمد نے ابتدا میں کبھی بڑے کاروباری خواب نہیں دیکھے تھے۔ ان کی پیشہ ورانہ زندگی کا آغاز اکاؤنٹس ڈیپارٹمنٹ سے ہوا، مگر مستقل مزاجی، درست فیصلوں اور وقت پر ملنے والے مواقع نے ان کی زندگی کا رخ ہمیشہ کے لیے بدل دیا۔ ہجرت، جدوجہد اور نئی زندگی کا آغاز بشیر جان محمد کی پیدائش بھارت کے صوبہ گجرات کے ایک چھوٹے سے شہر بانٹوا میں ہوئی۔ قیام پاکستان کے بعد ان کا خاندان گجرات چھوڑ کر کراچی منتقل ہوا۔ تقسیم ہند کا وہ دور شدید بدامنی اور خوف سے بھرا ہوا تھا۔ بشیر جان کے مطابق، ان کے خاندان کو آخری لمحوں میں ...