نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

انڈیا 46 رنز پر ڈھیر کل تک انڈین مداح پاکستان پر ہنس رہے تھے اور آج پوری دنیا ان پر ہنس رہی ہے

 

گذشتہ ایک ہفتہ سے دنیائے کرکٹ میں پاکستان میں کرکٹ کی بدحالی اور منصوبہ بندی کے فقدان پر ہر جگہ بات ہو رہی تھی لیکن آج یہ تنقید جنوبی ایشیا کے ایک اور ملک انڈیا پر ہو رہی ہے۔

اس کی وجہ انڈیا کا نیوزی لینڈ کے خلاف سیریز کے پہلے ٹیسٹ کی پہلی اننگز میں صرف 46 رنز پر آل آؤٹ ہونا ہے۔

یقیناً آپ بھی یہ سوچ رہے ہوں گے کہ یہ میچ نیوزی لینڈ میں کھیلا جا رہا ہو گا جو اپنی گرین پچز اور باؤنس کے لیے مشہور ہے لیکن یہ انڈیا کے رنز بنانے کے لیے مشہور گراؤنڈ بنلگورو کے چنسوامی کرکٹ سٹیڈیم میں کھیلا جا رہا تھا۔

پہلے ٹیسٹ کا پہلا دن بارش کے باعث منسوخ ہو گیا تھا جس کے بعد آج دوسرے دن انڈیا نے ٹاس جیت کر پہلے خود بیٹنگ کرنے کا فیصلہ کیا۔

انڈیا کی جانب سے اوپنر شبمن گِل انجری کے باعث یہ میچ نہیں کھیل سکے تھے اور ان کی جگہ بلے باز سرفراز خان کو ٹیم میں جگہ دی گئی تھی۔

انڈیا کی جانب سے اننگز کا بہت محتاط آغاز کیا گیا اور ٹِم ساؤدھی اور میٹ ہینری نے اوپنرز کو باندھے رکھا، تاہم پھر ہینری کی جانب سے روہت شرما کوآؤٹ کرنے کی دیر تھی کہ انڈین بیٹنگ لڑکھڑا گئی۔

ایک کے بعد ایک کھلاڑی کے آؤٹ ہونے اور سکور میں زیادہ اضافہ نہ کرنے کے باعث ایک موقع پر تو یہ بھی لگ رہا تھا کہ انڈیا اپنا ماضی کا اننگز کا سب سے کم ٹوٹل یعنی 36 رنز بھی عبور کرنے میں ناکام رہے گا لیکن انڈیا بالآخر 46 رنز بنا کر آل آؤٹ ہوا۔

یہ انڈیا کا اپنے ہوم گراؤنڈ پر سب سے کم ٹوٹل ہے جبکہ عمومی طور پر یہ اس کا تیسرا سب سے کم ٹوٹل ہے۔

انڈیا کے سکور کارڈ پر نظر دوڑائیں تو صفر کی بھرمار دکھائی دیتی ہے۔ وراٹ کوہلی، سرفراز خان، کے ایل راہل، رویندرا جڈیجا اور روی چندرن ایشون صفر پر پویلین لوٹ گئے۔

انڈیا کے لیے سب سے زیادہ رشبھ پنت نے 20 رنز بنائے جس کے بعد یشوی جیسوال 13 رنز بنا کر دوسرے نمبر پر رہے۔ یعنی ان دو کے علاوہ باقی کھلاڑیوں نے صرف نو رنز بنائے جبکہ نیوزی لینڈ نے چار ایکسٹرا رنز دیے۔

انڈیا کی ہوم ٹیسٹ میں اتنی ناقص بیٹنگ کارکردگی پر اکثر افراد حیران ہیں کیونکہ گذشتہ سیریز میں بنگلہ دیش کے خلاف انڈیا نے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے دو صفر سے سیریز اپنے نام کر لی تھی۔

تاہم بنگلورو میں اس ناقص بیٹنگ پر تجزیہ کار بھی حیران ہیں اور انڈیا کے سیمنگ وکٹس پر بیٹنگ کے حوالے سے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

انڈیا میں شائقین کرکٹ، بورڈ کی جانب سے نیوزی لینڈ کے لیے مددگار پچ بنانے پر حکام سے نالاں ہیں۔

ایک صارف نے لکھا کہ ’وہ کون عقلمند تھا ٹیم مینجمنٹ یا بورڈ میں جو ایسی کنڈیشنز بنا رہے ہیں جو نیوزی لینڈ کے لیے سازگار ہیں۔‘

کچھ روز پہلے تک انڈین صارفین کی جانب سے پاکستان کرکٹ ٹیم کی انگلینڈ کے خلاف پہلے ٹیسٹ میچ میں اننگز سے شکست کے بعد خاصا مذاق اڑایا گیا تھا تاہم اب یہی کام پاکستان صارفین اور تجزیہ کاروں کی جانب سے بھی کیا جانے لگا۔

حمزہ نامی ایک صارف نے لکھا کہ ’ہم مانتے ہیں کہ پاکستان گھر پر ہارتا ہے لیکن کم از کم اتنے کم ٹوٹل پر تو آؤٹ نہیں ہوتا۔‘

ایک صارف نے لکھا کہ کل تک انڈین مداح پاکستان کرکٹ پر ہنس رہے تھے اور آج پوری دنیا انڈیا پر ہنس رہی ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ جواب میں نیوزی لینڈ کی جانب سے عمدہ بیٹنگ کا مظاہرہ کیا گیا اور 67 کی اوپننگ شراکت کے بعد ڈیون کانوے اور ول یننگ کے درمیان 75 رنز کی شراکت قائم ہوئی جس کے بعد ایک صارف نے لکھا کہ ایسا لگ رہا تھا کہ انڈیا کی ٹیم نیوزی لینڈ میں جبکہ کیوی بلے باز انڈیا میں بیٹنگ کر رہے ہیں۔

ایک صارف نے لکھا کہ ایک جانب تو کوچ گوتھم گمبھیر کہہ رہے تھے ہم ایسی ٹیم بننا چاہتے ہیں جو ایک دن میں 400 رنز بھی بنائے اور دو دن بیٹنگ بھی کرے اور دوسری جانب سے یہی ٹیم 46 پر آل آؤٹ ہونے کی صلاحیت بھی رکھتی ہے۔

کچھ صارفین کو یہاں ایم ایس دھونی کی یاد ستانے لگی اور ایک صارف نے لکھا کہ انڈین ٹیم کبھی بھی دھونی کی کپتانی میں 50 سے نیچے آؤٹ نہیں ہوئی۔

کرکٹ کمنٹیٹر ہارشا بھوگلے نے لکھا کہ ’آپ میں سے کتنے لوگوں کا خیال تھا کہ انڈیا میں صبح کے وقت اتنی سیم اور سوئنگ دستیاب ہو گی، نیوزی لینڈ کے بولرز یقیناً اپنی آنکھیں مل رہے ہوں گے۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

پنجاب آرازی ریکارڈ سنٹرز کے پتے اور رابطہ نمبر (ARC's) Punjab Arazi Record Centers addresses and contact numbers

  (ARC's) ارازی ریکارڈ  سنٹرز کی تفصیلات پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی (PLRA) صوبے بھر میں تحصیل سطح پر اپنے 151 اراضی ریکارڈ سنٹرز، 59 قانونگوئی آرازی ریکارڈ سینٹرز (QARC's) اور 20 موبائل اراضی ریکارڈ سینٹرز (MARC's) کے ذریعے خدمات فراہم کر رہی ہے۔ ضلع حافظ آباد اے آر سی، تحصیل حافظ آباد ڈسٹرکٹ کورٹس کمپلیکس، ضلع حافظ آباد (042)-99093000 Ext: 58310 اے آر سی، تحصیل پنڈی بھٹیاں تحصیل کمپلیکس کی نئی عمارت، نزد جوڈیشل کمپلیکس، ضلع حافظ آباد (042)-99093000 Ext: 58210 اے آر سی، تحصیل حافظ آباد ونیکی تارڑ، یونائن کونسل آفس وانکی تارڑ، ضلع حافظ آباد (042)-99093000 Ext: 58110 قانونگوئی (جالاپور بھٹیاں)  اے آر سی یونین کونسل آفس دیہی علاقہ، بند روڈ، وزیرآباد روڈ، جلال پور بھٹیاں تحصیل پنڈی بھٹیاں، ضلع حافظ آباد ضلع بہاولپور بہاولپور سٹی ، کالی پلی سٹاپ ریسکیو 1122 آفس کے قریب، ائیرپورٹ روڈ، ضلع بہاولپور (042)-99093000 Ext: 62310 بہاولپور صدر نزد بغداد الجدید پولیس اسٹیشن، ائیرپورٹ روڈ، ضلع بہاولپور (042)-99093000 Ext: 62210 اے آر سی، تحصیل حاصل پور نزد پی ٹی سی ایل ایکسچینج، ضلع ب...

شدید گرمی سے بچنا: پاکستان کے موسم گرما کے لیے رہنمائی

پاکستان کا موسم گرما ایک ایسی قوت ہے جو تشویشناک ہے۔ سندھ کی گرمی کی لہروں سے لے کر کراچی کے مرطوب ساحلی علاقوں اور پنجاب کے بنجر میدانوں تک، ملک میں انتہائی درجہ حرارت کا سامنا ہے جو اکثر 45 ° C (113 ° F) سے تجاوز کر جاتا ہے۔ موسم گرما جہاں تعطیلات، آموں اور تہوار کی شاموں کے مواقع لاتا ہے، وہیں یہ محفوظ اور صحت مند رہنے کے لیے بھی چوکسی کا تقاضا کرتا ہے۔ یہ گائیڈ پاکستان کے موسم گرما کی باریکیوں، ضروری احتیاطی تدابیر، حفاظتی اقدامات، اور عملی تقاضوں کو دریافت کرتا ہے تاکہ آپ کو اعتماد کے ساتھ موسم میں تشریف لے جانے میں مدد ملے۔ پاکستان کے سمر سیزن کو سمجھنا پاکستان کی آب و ہوا تمام خطوں میں نمایاں طور پر مختلف ہوتی ہے، لیکن گرمیاں عالمی سطح پر شدید ہوتی ہیں۔ موسم عام طور پر اپریل سے ستمبر تک رہتا ہے، مئی اور جولائی کے درمیان چوٹی کی گرمی کے ساتھ۔ یہاں کیا توقع کی جائے اس کی ایک خرابی ہے: درجہ حرارت کی انتہا : میدانی علاقے (پنجاب، سندھ، خیبرپختونخوا کے کچھ حصے): درجہ حرارت اکثر 40 ° C سے اوپر بڑھ جاتا ہے، جیکب آباد اور سبی جیسے شہروں میں ایشیاء میں سب سے زیادہ درجہ حرارت (50 ° C سے ...

واٹس ایپ کے نئے فیچرز جو آپ سے پوشیدہ ہیں – جانیں کہ انہیں کیسے استعمال کیا جائے۔

آج کی تیز رفتار دنیا میں، WhatsApp ہماری زندگی کا ایک لازمی حصہ بن گیا ہے۔ چاہے یہ دوستوں کے ساتھ ملنا ہو، کام کے مواصلات کا انتظام کرنا ہو، یا محض میمز کا اشتراک کرنا ہو، WhatsApp دنیا کو مربوط رکھتا ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ، واٹس ایپ نے صارف کے تجربے کو بڑھانے کے لیے مسلسل نئی اپ ڈیٹس متعارف کرائی ہیں۔ تاہم، ان میں سے بہت سی نئی خصوصیات اکثر اوسط صارف سے پوشیدہ رہتی ہیں! اگر آپ کو لگتا ہے کہ آپ WhatsApp کے بارے میں سب کچھ جانتے ہیں تو دوبارہ سوچیں۔ کچھ نئے اضافے کو مینو کے پیچھے ہٹا دیا جاتا ہے یا اپنی پوری صلاحیت کو غیر مقفل کرنے کے لیے تھوڑی سی کھدائی کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس بلاگ پوسٹ میں، ہم WhatsApp کی تازہ ترین پوشیدہ خصوصیات کا پتہ لگائیں گے اور آپ کو ان کو استعمال کرنے کا طریقہ دکھائیں گے — تاکہ آپ منحنی خطوط سے آگے رہ سکیں! 1. پیغام میں ترمیم کرنا: ٹائپنگ کی غلطیوں کو الوداع کہیں۔ کیا کبھی کوئی پیغام بھیجا اور فوری طور پر ٹائپنگ کی غلطی دیکھی؟ خوشخبری — واٹس ایپ اب آپ کو بھیجے گئے پیغامات میں ترمیم کرنے دیتا ہے! اسے استعمال کرنے کا طریقہ : جس پیغام میں آپ ترمیم کرنا چاہتے ہیں ...