نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

مفت کھانا اور مہلک نشہ آور ٹافیاں، وہ گمنام عطیہ جس نے نیوزی لینڈ میں ہلچل مچا دی

نیوزی لینڈ کے ایک شہر میں جب ایک خیراتی ادارے کے ارکان نے لوگوں میں کھانا تقسیم کیا تو انہیں معلوم ہی نہیں تھا کہ کھانے میں کافی کے ساتھ کھانا پیش کیا جا رہا ہے جو جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے۔

نیوزی لینڈ میں کھانے کے ساتھ پیش کی جانے والی جان لیوا لت والی ٹافیاں اب پولیس کے لیے ایک معمہ بنی ہوئی ہیں یہ ٹافیاں 'آکلینڈ سٹی مشن' نامی خیراتی ادارے نے کھانے کے ساتھ تقسیم کی تھیں اور خیال کیا جاتا ہے کہ اس کی تعداد 400 کے قریب لوگوں تک پہنچ چکی ہے۔

چیریٹی کا کہنا ہے کہ یہ ٹافیاں کسی نامعلوم شخص کی جانب سے عطیہ کے طور پر بھیجی گئی تھیں اور انہیں ایک ڈبے میں بند کر دیا گیا تھا، اب تک ان ٹافیوں کو کھانے سے ایک بچے سمیت تین افراد کی حالت بگڑ چکی ہے تاہم انہیں ابتدائی طبی امداد کے بعد گھر بھیج دیا گیا ہے۔

چیریٹی کے ایک ترجمان نے کہا کہ انہیں اس بات کا علم نہیں تھا کہ ٹافیوں میں میتھیمفیٹامائن موجود ہے۔
نیوزی لینڈ ڈرگ فاؤنڈیشن کے اندازے کے مطابق ادویات میں ملاوٹ کی وجہ سے ہر کافی کی قیمت تقریباً 600 ڈالر ہے۔

پولیس کا ماننا ہے کہ 'یہ پورا معاملہ کوئی سوچی سمجھی منصوبہ بندی نہیں ہے لیکن ہو سکتا ہے غیر ارادی ہو کیونکہ وہ فی الحال کسی نتیجے پر نہیں پہنچے ہیں'۔

خیال رہے کہ چیریٹی کی جانب سے یہ معاملہ حکام کی توجہ میں اس وقت لایا گیا تھا جب چند لوگوں نے شکایت کی تھی کہ کھانا تقسیم کرنے کے بعد ٹافی کا ذائقہ عجیب ہے۔

آکلینڈ سٹی مشن کی چیف ایگزیکٹیو ہیلن رابنسن کے مطابق چیریٹی کے کچھ ممبران نے خود ٹافیاں کھائیں اور پھر اس نتیجے پر پہنچے کہ شکایات درست ہیں کیونکہ اس کے بعد انہیں بھی عجیب و غریب احساسات کا سامنا کرنا پڑا۔

اس کے بعد ٹافیاں نیوزی لینڈ ڈرگ فاؤنڈیشن کو بھیجی گئیں جہاں ٹیسٹوں سے اس بات کی تصدیق ہوئی کہ ان میں ممکنہ طور پر مہلک میتھیمفیٹامین کی مقدار موجود تھی۔

ایک بیان میں ایجنسی نے کہا کہ ایک ٹافی میں تین گرام میتھم فیٹامائن ہوتی ہے عام طور پر ایک وقت میں 10 سے 25 ملی گرام میتھم فیٹامائن لی جاتی ہے یعنی ایک ٹافی میں اس مقدار سے 300 گنا زیادہ ہوتا ہے۔
نیوزی لینڈ ڈرگ فاؤنڈیشن کی سربراہ سارہ ہیلم نے کہا کہ "یہ زیادہ مقدار انتہائی خطرناک ہے اور اس کے نتیجے میں موت واقع ہو سکتی ہے۔

میتھمفیٹامین سینے میں درد خطرناک حد تک کم جسم کے درجہ حرارت میں بے ہوشی اور تیز دل کی دھڑکن کا سبب بن سکتی ہے۔

ہیلن رابنسن کا کہنا ہے کہ ان کی چیریٹی ہر سال 50,000 فوڈ پارسل تقسیم کرتی ہے جس میں صرف تجارتی خوراک شامل ہوتی ہے

پولیس نے عوام سے کہا ہے کہ وہ کسی بھی ایسے شخص سے رابطہ کریں جس کے پاس مخصوص پیلے کاغذ میں لپٹی ہوئی ٹافیاں ہوں پولیس کے جاسوس انسپکٹر گلین بالڈون نے بدھ کو ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ عوام کو ان ٹافیوں اور اس سے منسلک خطرات سے آگاہ رہنے کی ضرورت ہے۔ ان کے ساتھ



انہوں نے کہا کہ کھانے میں میتھ کی ملاوٹ کے واقعات پہلے بھی ہو چکے ہیں اور وہ اس معاملے کی انٹرپول کی مدد سے تحقیقات کرنا چاہتے ہیں جس میں وقت لگ سکتا ہے۔
ملاوٹی ٹافیاں تیار کرنے والی ملائیشیا کی کمپنی رنڈا نے کہا ہے کہ وہ اس مسئلے سے آگاہ ہے اور کوئی دوائی استعمال نہیں کرتی۔

ایک بیان میں کمپنی نے کہا کہ وہ اپنے برانڈ نام کی حفاظت کے لیے متعلقہ حکام اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مل کر کام کرے گی۔

مقامی نیوز سائٹ سٹف این زیڈ سے بات کرتے ہوئے کمپنی کے جنرل منیجر سٹیون پی نے کہا کہ انہوں نے جو تصاویر دیکھی ہیں ان میں ٹافیوں کا رنگ سفید دکھائی دے رہا ہے لیکن ان کی تیار کردہ مصنوعات کا رنگ پیلا ہے۔

اس معاملے میں نیوزی لینڈ میں حکام اب تک 16 پیکٹ برآمد کر چکے ہیں اور پولیس کا کہنا ہے کہ ہر پیکٹ میں 20 سے 30 ٹافیاں ہو سکتی ہیں تاہم ٹافیوں کی کل تعداد کے بارے میں یقین سے کچھ نہیں کہا جا سکتا۔

چیریٹی کے مطابق یہ ٹافیاں جولائی کے وسط میں نیوزی لینڈ میں ڈرگ فاؤنڈیشن کے ڈپٹی ڈائریکٹر بین برکس کا خیال ہے کہ 'کسی نے جان بوجھ کر ایسا نہیں کیا کیونکہ اس طرح منشیات کی سمگلنگ عام بات ہے'۔

چیریٹی کا کہنا ہے کہ اس نے دیگر تنظیموں سے بھی رابطہ کیا ہے تاکہ اس کے پاس موجود ٹافیوں کی چھان بین کی جا سکے۔


تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

پنجاب آرازی ریکارڈ سنٹرز کے پتے اور رابطہ نمبر (ARC's) Punjab Arazi Record Centers addresses and contact numbers

  (ARC's) ارازی ریکارڈ  سنٹرز کی تفصیلات پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی (PLRA) صوبے بھر میں تحصیل سطح پر اپنے 151 اراضی ریکارڈ سنٹرز، 59 قانونگوئی آرازی ریکارڈ سینٹرز (QARC's) اور 20 موبائل اراضی ریکارڈ سینٹرز (MARC's) کے ذریعے خدمات فراہم کر رہی ہے۔ ضلع حافظ آباد اے آر سی، تحصیل حافظ آباد ڈسٹرکٹ کورٹس کمپلیکس، ضلع حافظ آباد (042)-99093000 Ext: 58310 اے آر سی، تحصیل پنڈی بھٹیاں تحصیل کمپلیکس کی نئی عمارت، نزد جوڈیشل کمپلیکس، ضلع حافظ آباد (042)-99093000 Ext: 58210 اے آر سی، تحصیل حافظ آباد ونیکی تارڑ، یونائن کونسل آفس وانکی تارڑ، ضلع حافظ آباد (042)-99093000 Ext: 58110 قانونگوئی (جالاپور بھٹیاں)  اے آر سی یونین کونسل آفس دیہی علاقہ، بند روڈ، وزیرآباد روڈ، جلال پور بھٹیاں تحصیل پنڈی بھٹیاں، ضلع حافظ آباد ضلع بہاولپور بہاولپور سٹی ، کالی پلی سٹاپ ریسکیو 1122 آفس کے قریب، ائیرپورٹ روڈ، ضلع بہاولپور (042)-99093000 Ext: 62310 بہاولپور صدر نزد بغداد الجدید پولیس اسٹیشن، ائیرپورٹ روڈ، ضلع بہاولپور (042)-99093000 Ext: 62210 اے آر سی، تحصیل حاصل پور نزد پی ٹی سی ایل ایکسچینج، ضلع ب...

رمضان 2026: سب سے چھوٹے اور طویل ترین روزے کہاں ہیں؟

رمضان 2026: سب سے چھوٹے اور طویل ترین روزے کہاں ہیں؟ دنیا بھر میں رمضان المبارک کی آمد آمد ہے اور مسلمان بدھ (18 فروری) یا جمعرات (19 فروری) کو اپنا روزہ شروع کریں گے۔ تاریخیں اس بات پر منحصر ہوتی ہیں کہ آپ دنیا کے کس حصے میں رہتے ہیں۔ رمضان اسلامی کیلنڈر کا نواں مہینہ ہے اور مسلمانوں کے لیے اس کی بے حد اہمیت ہے۔ ہر سال لاکھوں مسلمان طلوعِ آفتاب سے غروبِ آفتاب تک روزہ رکھتے ہیں۔ اسلام میں روزہ ہجری کے دوسرے سال، یعنی پیغمبر اسلام کی مکہ سے مدینہ ہجرت کے دوسرے سال فرض کیا گیا۔ اس کے بعد سے دنیا بھر کے مسلمان اس عبادت کو ادا کر رہے ہیں۔ رمضان کا آغاز قمری کیلنڈر کے مطابق ہوتا ہے، اسی لیے گریگورین کیلنڈر میں اس کی تاریخ ہر سال تقریباً 11 دن پہلے آ جاتی ہے۔ جغرافیہ روزے کی مدت کو کیسے متاثر کرتا ہے؟ دن کے اجالے کے اوقات ہر مقام پر مختلف ہوتے ہیں اور یہ خطِ استوا سے فاصلے پر منحصر ہوتے ہیں۔ اس وقت جنوبی نصف کرہ میں موسمِ گرما ہے، اس لیے: دن لمبے ہیں راتیں چھوٹی ہیں ➡️ نتیجتاً روزے طویل ہوتے ہیں جبکہ شمالی نصف کرہ میں موسمِ سرما ہے: دن چھوٹے ہیں راتیں لمبی ہیں ➡️ روزے ن...

بناسپتی برانڈ ’ڈالڈا‘ کے مالک بشیر جان: اکاؤنٹنٹ سے ارب پتی بننے تک کا غیر معمولی سفر

پاکستان میں خوردنی تیل کی صنعت ایک بہت بڑی اور منافع بخش مارکیٹ بن چکی ہے، اور اس شعبے کا سب سے نمایاں اور طاقتور نام ایک ایسے شخص سے جڑا ہے جو نہ کسی روایتی سیٹھ گھرانے سے تعلق رکھتا ہے اور نہ ہی اس کا پس منظر کسی بڑے کاروباری خاندان سے ملتا ہے۔ یہ کہانی ہے بشیر جان محمد کی، جنہوں نے ایک عام اکاؤنٹنٹ کے طور پر کیریئر کا آغاز کیا اور بالآخر پاکستان کے ارب پتی کاروباری شخصیات میں شمار ہونے لگے۔ یہ ایک حیران کن حقیقت ہے کہ پاکستان میں خوردنی تیل کے کاروبار میں سب سے بڑا نام بننے والے بشیر جان محمد نے ابتدا میں کبھی بڑے کاروباری خواب نہیں دیکھے تھے۔ ان کی پیشہ ورانہ زندگی کا آغاز اکاؤنٹس ڈیپارٹمنٹ سے ہوا، مگر مستقل مزاجی، درست فیصلوں اور وقت پر ملنے والے مواقع نے ان کی زندگی کا رخ ہمیشہ کے لیے بدل دیا۔ ہجرت، جدوجہد اور نئی زندگی کا آغاز بشیر جان محمد کی پیدائش بھارت کے صوبہ گجرات کے ایک چھوٹے سے شہر بانٹوا میں ہوئی۔ قیام پاکستان کے بعد ان کا خاندان گجرات چھوڑ کر کراچی منتقل ہوا۔ تقسیم ہند کا وہ دور شدید بدامنی اور خوف سے بھرا ہوا تھا۔ بشیر جان کے مطابق، ان کے خاندان کو آخری لمحوں میں ...