(ایک طائرانہ حملہ جس نے تاریخ کا دھارا بدل دیا)
پیش لفظ:
مشرق وسطیٰ کی جنگی تاریخ میں ۱۹۶۷ کا جون کا مہینہ ایک ایسے واقعے کا گواہ بنا جس نے نہ صرف خطے کی جغرافیائی سیاسیات کو نئے سرے سے ترتیب دیا بلکہ جدید فوجی حکمت عملی کے دائرے میں بھی انقلاب برپا کر دیا۔ "چھ روزہ جنگ" (Six-Day War) کے نام سے مشہور اس تنازعے کا پہلا اور فیصلہ کن گھنٹہ، درحقیقت پہلے آدھے گھنٹے میں ہی لکھ دیا گیا تھا۔ یہ وہ مختصر ترین وقت تھا جس میں اسرائیلی فضائیہ نے ایک ایسی ہوش ربا کارروائی انجام دی جس کے نتیجے میں دنیا کی سب سے بڑی اور جدید ترین فضائیہ میں سے ایک، مصر کی فضائیہ، عملاً صفحہ ہستی سے مٹ گئی۔ یہ صرف ایک فوجی کارروائی نہیں تھی؛ یہ ایک ایسا شاہکار تھا جس میں بے پناہ جرات، ناقابل یقین درستگی، غیر معمولی خفیہ معلومات اور دشمن کی غفلت و غرور کو بھرپور طریقے سے استعمال کیا گیا۔ آئیے، اس ناقابل فراموش اور تاریخ ساز صبح کی تفصیلات میں جھانکتے ہیں، جب مشرق وسطیٰ کا آسمان آگ اور تباہی کے بادل چھا گئے۔
۱۔ پس منظر: جنگ سے پہلے کا دباؤ اور تناؤ:
۱۹۵۶ سوئز بحران کے بعد: سوئز بحران میں مصر پر برطانیہ، فرانس اور اسرائیل کی مشترکہ جارحیت ناکام ہوئی تھی۔ تاہم، اسرائیل کے لیے تیران آبنائے (Strait of Tiran) کی بحری گزرگاہ کا مسئلہ حل نہیں ہوا تھا، جو اسرائیل کے جنوبی بندرگاہ ایلات کے لیے اہم تھی۔
ناصر کی قیادت اور عرب قوم پرستی: صدر جمال عبدالناصر عرب دنیا میں پین عرب ازم کے سب سے بڑے چیمپئن تھے۔ ان کی اسرائیل مخالف پالیسی اور خطے میں مصر کے مرکزی کردار نے عرب ممالک کو اسرائیل کے خلاف ایک پلیٹ فارم پر جمع کر دیا تھا۔
فلسطینی چھاپہ مار کارروائیاں (فیڈائین): فلسطینی گروہوں کی اسرائیل پر چھاپہ مار کارروائیاں بڑھ رہی تھیں، جس کے جواب میں اسرائیل جارحانہ ردعمل دکھا رہا تھا۔ اپریل ۱۹۶۷ میں فضائی جھڑپوں میں شام کے متعدد طیارے تباہ ہوئے۔
خطرناک غلط فہمیاں اور پروپیگنڈا: مئی ۱۹۶۷ میں، مصر کو غلط اطلاعات ملیں کہ اسرائیل شام پر بڑے پیمانے پر حملے کی تیاری کر رہا ہے۔ ناصر نے اس کا جواب دینے کے لیے:
سینا جزیرہ نما میں فوجیں روانہ کرنا: ہزاروں فوجیوں اور سینکڑوں ٹینکوں کو اسرائیل کی سرحد پر تعینات کر دیا گیا۔
اقوام متحدہ کی امن فوج کو نکال باہر کرنا: سینا میں تعینات UNEF امن فوج کو مصر نے واپس بلانے پر مجبور کر دیا۔
تیران آبنائے کو بند کرنا (۲۲ مئی): سب سے اہم اور جنگ کو دعوت دینے والا قدم۔ ناصر نے اعلان کیا کہ اسرائیلی جہازوں اور اسرائیل کو سامان پہنچانے والے جہازوں کو آبنائے سے گزرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ اسرائیل نے اسے جنگ کا اعلان سمجھا۔
عرب اتحاد اور جنگی جنون: مصر، شام اور اردن نے فوجی معاہدے کیے۔ عرب دنیا میں جذباتی لہر دوڑ گئی۔ قاہرہ اور دوسرے عرب دارالحکومتوں میں جلسے جلوس ہونے لگے، جہاں اسرائیل کو "سمندر میں پھینک دینے" کے نعرے لگائے جا رہے تھے۔ عرب افواج کی تعداد اور اسلحہ اسرائیل سے کہیں زیادہ تھا۔
اسرائیل کا گھیراؤ اور دفاعی تیاری: اسرائیل خود کو گھیرے میں محسوس کر رہا تھا۔ تیران آبنائے کا بند ہونا اس کی معیشت اور سلامتی کے لیے براہ راست خطرہ تھا۔ اسرائیلی فوج (IDF) مکمل طور پر ہوشیار تھی۔ وزیراعظم لیوی اشکول اور وزیر دفاع موشے دایان کے درمیان حکمت عملی پر بحث جاری تھی۔ تاہم، فضائیہ کے کمانڈر موتی ہاڈ نے ایک جرأت مندانہ پلان پر زور دیا: مصری فضائیہ کو زمین پر ہی تباہ کرنے کا پری ایمپٹو اسٹرائیک (Pre-emptive Strike)۔
۲۔ آپریشن فوکس (Mivtza Moked) – تباہی کا نقشہ:
مقصد: صرف ایک ہی حملے میں مصر کی فضائیہ کی لڑاکا صلاحیت کو مکمل طور پر ختم کرنا، جس سے زمینی جنگ کے دوران فضائی برتری حاصل کی جا سکے۔
کلید: حیرت، درستگی، رفتار اور وقت بندی:
حیرت (Surprise): حملہ ایسے وقت پر کیا جانا تھا جب مصری فضائیہ سب سے کم تیار ہو – صبح کے وقت جب پائلٹ اور گراؤنڈ اسٹاف ناشتے یا شفٹ تبدیل کر رہے ہوں، اور اعلیٰ کمانڈر ٹریفک میں ہوں۔
درستگی (Precision): رن وے کو ناکارہ بنانے کے لیے مخصوص "ڈرل بم" استعمال کیے جانے تھے، تاکہ طیارے اڑان نہ بھر سکیں۔ پھر، پارکنگ ایریاز میں کھڑے طیاروں کو تباہ کرنا تھا۔
رفتار (Speed): طیاروں کو انتہائی کم بلندی (Low Level) پر پرواز کرتے ہوئے مصری ریڈار سے بچنا تھا اور جلد از جلد اپنے اہداف تک پہنچنا تھا۔ ہر طیارے کو مختصر ترین وقت میں زیادہ سے زیادہ اہداف نشانہ بنانا تھا۔
وقت بندی (Timing): تمام اسکواڈرنز کو ایک ہی وقت پر اپنے اہداف تک پہنچنا تھا تاکہ مصری کمانڈ کو ردعمل کا موقع نہ مل سکے۔ پہلی لہر کے بعد فوری طور پر دوسری لہر کا آغاز ہونا تھا۔
انتخابِ اہداف: اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد اور فضائیہ کی انٹیلی جنس نے مصر کے تقریباً تمام اہم فضائی اڈوں کی مکمل معلومات اکٹھی کی تھیں:
اہم ہدف: ابو صویر، بنی سویف، کبیرِت، فائد، انشاس، جبل الاسکی، بیر الجفجافہ، بئر تمادہ، منصورہ، جمال عبدالناصر (الاریش) وغیرہ۔
طیاروں کی تعداد اور اقسام: ہر اڈے پر موجود طیاروں کی تعداد، اقسام (مِگ-۲۱، مِگ-۱۹، سوخوئی-۷، ٹوپولوف بمبار، ٹرانسپورٹ)، ان کی پارکنگ پوزیشنز اور دفاعی نظام کی تفصیلات معلوم تھیں۔
طیارے اور ہتھیار: اسرائیلی فضائیہ کا بنیادی لڑاکا طیارہ فرانسیسی ساختہ ڈیسالٹ میراج III سی (Dassault Mirage IIIC) تھا، جس کی رفتار اور چستی بہترین تھی۔ دیگر طیاروں میں سوپر مسٹیر (Super Mystère)، ووٹور (Vautour)، اور حتیٰ کہ تربیتی طیارے اووراگن (Ouragan) اور فُوگا میسٹیر (Fouga Magister) بھی استعمال کیے گئے۔ ان طیاروں کو خصوصی طور پر زمینی اہداف پر حملے کے لیے ڈیزائن کیے گئے ۳۰ ملی میٹر کی نیم خودکار توپوں، راکٹوں اور خصوصاً "ڈرل بمز" (Durandal یا بتوز) سے لیس کیا گیا تھا۔ یہ بم رن وے پر گر کر اسے اندر سے پھاڑ دیتے تھے، جس سے گہرے گڑھے بن جاتے تھے اور رن وے کو فوری طور پر مرمت کرنا ناممکن ہو جاتا تھا۔
حملے کا وقت: صبح ۷:۴۵ بجے اسرائیلی وقت (صبح ۸:۴۵ بجے مصری وقت، ۵ جون ۱۹۶۷)۔ اس وقت کا انتخاب اس لیے کیا گیا کہ:
مشرقی بحیرہ روم پر سورج چمک رہا ہوتا، جبکہ مغربی مصر میں دھند یا سورج کی چمک مصری دفاعی نظام کو کمزور کرتی۔
مصری فضائیہ کے اعلیٰ کمانڈر عام طور پر اس وقت اپنے گھروں سے اڈوں کی طرف جا رہے ہوتے تھے۔
پائلٹ اور گراؤنڈ اسٹاف ناشتے پر ہوتے یا شفٹ تبدیل کر رہے ہوتے۔
مصری فضائیہ کی صبح کی معمول کی پہلی پیٹرولنگ مکمل ہو چکی ہوتی اور دوسری پیٹرولنگ تیاری کے مراحل میں ہوتی۔
۳۔ وہ تاریخی آدھا گھنٹہ: تباہی کا آغاز (۵ جون ۱۹۶۷، صبح ۷:۴۵ سے ۸:۱۵ اسرائیلی وقت):
پہلی لہر کا آغاز:
اسرائیل کے تقریباً تمام لڑاکا طیارے (کل دستیاب کا ۹۰٪ سے زیادہ، تقریباً ۱۸۵ طیارے) ایک ساتھ اڑان بھرتے ہیں۔
طیارے بحیرہ روم پر انتہائی کم بلندی (حتیٰ کہ ۳۰ میٹر یا اس سے بھی کم) پر پرواز کرتے ہیں تاکہ مصری ریڈار ان کا پتہ نہ لگا سکے۔ وہ ریڈار کی پہنچ سے نیچے (Under the Radar) اڑتے ہیں۔
طیارے گروپوں میں تقسیم ہوتے ہیں، ہر گروپ کو مخصوص مصری فضائی اڈوں پر حملے کی ذمہ داری سونپی جاتی ہے۔
حملے کی تکنیک:
مرحلہ ۱: رن وے کو تباہ کرنا: پہلے طیارے اپنے ڈرل بم رن وے پر گراتے ہیں۔ یہ بم رن وے کو پھاڑ کر گہرے، مرمت نہ ہونے والے گڑھے بنا دیتے ہیں۔ اس سے کسی بھی مصری طیارے کا اڑان بھرنا ناممکن ہو جاتا ہے۔
مرحلہ ۲: پارک شدہ طیاروں کو تباہ کرنا: جیسے ہی رن وے ناکارہ ہوتی ہے، اگلے طیارے اپنے توپوں، راکٹوں اور عام بمبوں سے پارکنگ ایریاز، ہینگرز اور پناہ گاہوں میں کھڑے مصری طیاروں پر حملہ کرتے ہیں۔ طیارے عین اس وقت نشانہ بنتے ہیں جب ان کے پائلٹ انہیں چلانے کی کوشش کر رہے ہوتے ہیں یا انجن گرم کر رہے ہوتے ہیں۔
مرحلہ ۳: دفاعی نظام کا خاتمہ: ساتھ ہی ریڈار اسٹیشنز، سام (SAM) میزائل سائٹس، کنٹرول ٹاورز اور ایندھن کے ڈپو بھی نشانہ بنائے جاتے ہیں تاکہ مصری فضائیہ کی بحالی کا کوئی امکان نہ رہے۔
مصری ردعمل: ایک المیہ:
مکمل حیرت: مصری فضائیہ اور اس کا کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم بالکل غیر تیار تھا۔ حملے کے وقت فضائیہ کے سربراہ مارشل صدقی محمود اپنے دفتر تک پہنچنے کی کوشش کر رہے تھے۔
مواصلات کا نظام تباہ: پہلے حملوں میں ہی کنٹرول ٹاورز اور مواصلاتی مراکز تباہ ہو گئے، جس سے اڈوں کے درمیان رابطہ منقطع ہو گیا۔ ایک اڈہ دوسرے اڈے کو خطرے سے آگاہ نہیں کر سکتا تھا۔
رن وے کا ناکارہ ہونا: ڈرل بمز نے اپنا کام بہت موثر طریقے سے کیا۔ رن وے پر بننے والے گڑھوں کی وجہ سے کوئی بھی مصری طیارہ اڑان نہیں بھر سکتا تھا۔ جو چند طیارے اڑانے میں کامیاب ہوئے، وہ بھی اسرائیلی طیاروں کا مقابلہ نہ کر سکے یا زمین پر ہی مار گرائے گئے۔
پائلٹس اور گراؤنڈ اسٹاف کا انتشار: بہت سے پائلٹ طیاروں تک پہنچنے سے پہلے ہی مارے گئے یا زخمی ہو گئے۔ گراؤنڈ اسٹاف بھاگ کر جان بچانے کی کوشش میں تھے۔
دفاعی اہلیت کا فقدان: فضائی دفاع (اینٹی ایئرکرافٹ گنز اور سام میزائل) یا تو تیار نہیں تھا، یا اس کا مؤثر استعمال نہیں ہو سکا۔ اسرائیلی طیارے اتنی کم بلندی پر تھے کہ انہیں نشانہ بنانا مشکل تھا۔
دوسری لہر: ضربِ کاری:
پہلی لہر کے طیارے جب واپس اپنے اڈوں پر پہنچے تو انہیں انتہائی تیزی سے دوبارہ ایندھن بھرا گیا اور ہتھیار لگائے گئے۔
تقریباً ۴۵ منٹ بعد (صبح ۸:۳۰ اسرائیلی وقت کے قریب)، دوسری لہر کے طیارے اڑان بھرتے ہیں۔
یہ طیارے انہی مصری اڈوں پر دوبارہ حملہ کرتے ہیں جو پہلے نشانہ بنے تھے، تاکہ جو کچھ بچ گیا ہو یا بحال ہونے کی کوشش ہو رہی ہو، اسے مکمل تباہ کر دیا جائے۔ ساتھ ہی، پہلی لہر میں نظرانداز کیے گئے یا کم اہم سمجھے گئے کچھ اڈوں پر بھی حملے کیے جاتے ہیں۔
صرف آدھے گھنٹے کا کھاتا:
مصری فضائیہ کی تباہی: صرف پہلے آدھے گھنٹے (پہلی لہر کے دوران) ہی میں، مصر کے تقریباً تمام اہم فضائی اڈے تباہ ہو چکے تھے۔
طیاروں کا نقصان: ایک اندازے کے مطابق، صرف صبح ۷:۴۵ سے ۹:۰۰ بجے (اسرائیلی وقت) کے درمیان مصر نے تقریباً ۲۸۶ لڑاکا اور بمبار طیارے کھوئے۔ ان میں سے اکثریت زمین پر ہی تباہ ہوئے۔
اہم اڈے مکمل طور پر ناکارہ: ابو صویر، بنی سویف، کبیرِت، فائد جیسے اہم اڈوں پر موجود تقریباً تمام طیارے تباہ، رن وے استعمال کے قابل نہیں، کنٹرول سسٹم ختم۔
انسانی نقصانات: سینکڑوں پائلٹ، گراؤنڈ اسٹاف اور ٹیکنیشن ہلاک یا زخمی ہوئے۔ فضائیہ کا کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم مکمل طور پر تباہ ہو گیا۔
۴۔ شام اور اردن کی فضائیہ کا خاتمہ:
اسرائیل کا اصل ہدف مصر تھا، کیونکہ وہ سب سے بڑا خطرہ تھا۔ تاہم، جب صبح ۱۱:۰۰ بجے کے قریب شام اور اردن نے (مصر کے ساتھ معاہدے کے تحت) مغربی یروشلم پر گولہ باری اور فضائی حملے شروع کیے تو اسرائیل کو موقع ملا:
شام پر حملہ: دوپہر کے وقت، اب مصری خطرہ کم ہونے کے بعد، اسرائیلی فضائیہ اپنی طاقت شام کی فضائیہ کے خلاف مرکوز کرتی ہے۔ دمشق، دیر الزور، سیبل، تیفور اور دیگر اہم فضائی اڈوں پر حملے کیے جاتے ہیں۔ شام اپنی فضائیہ کا تقریباً دو تہائی (۵۳ سے ۶۰ طیارے) صرف چند گھنٹوں میں کھو دیتی ہے۔
اردن پر حملہ: اسی دن، اردن کے اہم فضائی اڈے، خاص طور پر امیر غازی (Mafraq) اور عمان پر حملے کیے جاتے ہیں۔ اردن اپنی چھوٹی لیکن جدید فضائیہ (۲۸ ہاکر ہنٹر طیارے) کا تقریباً تمام حصہ کھو دیتا ہے۔
سینا محاذ:
اسرائیلی فضائیہ مصری ٹینکوں، توپخانے، فوجی قافلوں اور دفاعی مورچوں کو بلا روک ٹوک نشانہ بنا سکتی تھی۔
مصری فوج کو نقل و حرکت میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ سپلائی لائنیں تباہ ہو گئیں۔
اسرائیلی زمینی فوجیں (جنرل یشعیاہو گویش اور جنرل آریل شیرون کی کمان میں) تیزی سے آگے بڑھ سکیں، مصری مزاحمت کو توڑتے ہوئے سوئز نہر تک پہنچ گئیں۔ مصری فوج کا ایک بڑا حصہ سینا میں پھنس کر تباہ ہو گیا۔
یروشلم اور ویسٹ بینک محاذ:
اردن کی فضائیہ کے ختم ہونے کے بعد، اسرائیلی فضائیہ نے اردنی فوجی دستوں، ٹینکوں اور دفاعی عمارتوں پر زبردست بمباری کی۔
اسرائیلی زمینی فوج (جنرل موتے گور کی کمان میں) مشرقی یروشلم اور پورے ویسٹ بینک پر قبضہ کرنے میں کامیاب ہو گئی۔
گولان کی پہاڑیاں محاذ:
شامی فضائیہ کی تباہی کے بعد، اسرائیلی فضائیہ نے گولان کی پہاڑیوں پر شامی توپخانے اور مورچوں کو نشانہ بنایا، جو اسرائیلی شمالی بستیوں پر گولہ باری کر رہے تھے۔
اسرائیلی زمینی فوجیں (جنرل ڈیوڈ ایلعازر کی کمان میں) گولان کی پہاڑیوں کی دشوار گزار بلندیوں پر چڑھ گئیں اور تقریباً پورے گولان پر قبضہ کر لیا۔
۶۔ تباہی کا اندازہ: اعداد و شمار:
مصر: ۲۸۶ سے زائد طیارے تباہ (زیادہ تر زمین پر)، تقریباً ۲۰ پائلٹ ہلاک۔ فضائیہ کی لڑاکا صلاحیت کا ۸۵٪ سے زیادہ حصہ ختم۔
شام: ۵۳ سے ۶۰ طیارے تباہ۔ فضائیہ کی صلاحیت کا تقریباً ۶۶٪ ختم۔
اردن: ۲۸ میں سے تقریباً ۲۸ ہاکر ہنٹر طیارے تباہ۔ پوری فضائیہ عملاً ختم۔
عراق (ایک چھوٹا سا حصہ): مغربی عراق کے H-3 ائیر بیس پر حملے میں ۱۰ عراقی طیارے تباہ۔
اسرائیلی نقصانات: صرف ۱۹ طیارے کھوئے (زیادہ تر زمینی فضائی دفاع کی گولیوں سے، فضائی مقابلے میں نہیں)۔ زیادہ تر نقصان دوسرے اور تیسرے دن شام اور مصر میں ہدف بنائے گئے اڈوں پر حملوں کے دوران ہوا۔
۷۔ وجوہاتِ کامیابی اور ناکامی: ایک تجزیہ:
اسرائیلی کامیابی کے اسباب:
برتر انٹیلی جنس: موساد اور دیگر ایجنسیوں کی جانب سے حاصل کردہ معلومات انتہائی درست، تفصیلی اور بروقت تھیں۔
بے مثال منصوبہ بندی (آپریشن فوکس): ہر جزئیہ پر غور کیا گیا تھا۔ حیرت، درستگی، رفتار اور وقت بندی کو مرکزی حیثیت دی گئی۔
پائلٹس کی مہارت اور جرات: پائلٹس انتہائی تربیت یافتہ، حوصلہ مند اور مشکل مشن پر جان دینے کو تیار تھے۔ کم بلندی پر طویل پرواز اور درست حملہ کاری کمال کی چیز تھی۔
ہتھیاروں کی برتری (ڈرل بمز): ڈرل بمز کا استعمال فیصلہ کن ثابت ہوا۔ روایتی بم رن وے کو اتنے مؤثر طریقے سے تباہ نہیں کر سکتے تھے۔
کمانڈرز کا عزم: فضائیہ کے کمانڈر موتی ہاڈ اور اعلیٰ فوجی قیادت (دایان، رابین) نے مشکل فیصلہ کرنے اور اس پر عمل کرنے کا حوصلہ دکھایا۔
عرب (خاص طور پر مصری) ناکامی کے اسباب:
شدید غفلت اور خود اعتمادی: مصری قیادت اس بات پر یقین رکھتی تھی کہ اسرائیل پہل حملہ آور نہیں ہوگا، یا اگر ہوا بھی تو مصری فضائیہ اس کا مقابلہ کر لے گی۔ دفاعی تیاریاں ناکافی تھیں۔
ناکام کمانڈ اینڈ کنٹرول: مواصلاتی نظام کمزور اور حملے کے آغاز میں ہی تباہ ہو گیا۔ اعلیٰ کمانڈرز اپنے مراکز پر موجود نہیں تھے۔
ریڈار اور انٹیلی جنس کی ناکامی: کم بلندی پر آنے والے اسرائیلی طیاروں کا پتہ نہ چل سکا۔ حملے کی کوئی پیشگی اطلاع نہیں مل سکی۔
طیاروں اور اڈوں کی غیر محفوظ پوزیشننگ: طیارے اکٹھے اور کھلے عام پارک کیے گئے تھے، ہینگرز یا محفوظ پناہ گاہوں میں نہیں۔ رن وے کی حفاظت کے لیے کافی اقدامات نہیں تھے۔
پائلٹس کی تربیت میں کمی: مصری پائلٹس کی تربیت اور تجربہ ان کے اسرائیلی ہم پلّوں کے مقابلے میں کم تھا۔
سیاسی مداخلت: کہا جاتا ہے کہ صدر ناصر نے فضائیہ کو مکمل ہوشیاری پر رکھنے کی اجازت نہیں دی تھی، شاید اس خوف سے کہ اسرائیل کو چیلنج محسوس ہو۔
۸۔ فوری اور طویل مدتی نتائج:
چھ روزہ جنگ کا نتیجہ: فضائی برتری کے باعث اسرائیل فیصلہ کن فتح حاصل کرنے میں کامیاب رہا۔
سینا جزیرہ نما اور غزہ پٹی پر قبضہ۔
مشرقی یروشلم اور ویسٹ بینک پر قبضہ۔
گولان کی پہاڑیوں پر قبضہ۔
خطے کی جغرافیائی سیاسیات پر اثر:
اسرائیل کا رقبہ تین گنا سے زیادہ ہو گیا۔
لاکھوں فلسطینی مہاجر بنے (نکبہ کے بعد دوسرا بڑا ہجرت کا واقعہ)۔
اسرائیل اور عرب ممالک کے درمیان تناؤ میں شدت آئی۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے قرارداد ۲۴۲ منظور کی، جس میں "زمین کے بدلے امن" کا اصول پیش کیا گیا (اسرائیل مقبوضہ علاقوں سے انخلا کرے، عرب ممالک اسرائیل کے وجود کو تسلیم کریں)۔
فوجی حکمت عملی پر اثر:
آپریشن فوکس جدید فوجی تاریخ میں پری ایمپٹو اسٹرائیک اور فضائی برتری حاصل کرنے کی ایک معیاری مثال بن گیا۔ دنیا بھر کی فضائیائیں اس سے سبق سیکھیں۔
خفیہ معلومات (انٹیلی جنس) کی اہمیت واضح ہوئی۔
زمین پر فضائی اڈوں کی حفاظت اور پھیلاؤ (ڈسپیرل) پر زور دیا جانے لگا۔
"کمانڈ اینڈ کنٹرول" (C2) کی جنگ میں تباہی (C2 Degradation) کی اہمیت کو تسلیم کیا گیا۔
عرب فوجوں میں اصلاحات: مصر اور دیگر عرب ممالک نے اپنی فوجی تربیت، انٹیلی جنس نظام، کمانڈ سٹرکچر اور فضائی دفاع کو مکمل طور پر ازسرنو منظم کیا، جس کا ثبوت ۱۹۷۳ کی جنگِ یوم کپور میں دیا گیا۔
۹۔ اختتامیہ: ایک ایسی صبح جس نے تاریخ بدل دی:
۵ جون ۱۹۶۷ کی وہ صبح مشرق وسطیٰ کی تاریخ میں ہمیشہ کے لیے ایک سیاہ باب کے طور پر درج ہو گئی۔ صرف آدھے گھنٹے کی اسرائیلی فضائی کارروائی نے نہ صرف چھ روزہ جنگ کا فیصلہ کر دیا بلکہ خطے کے نقشے اور مستقبل کو بھی نئے سرے سے ترتیب دے دیا۔ آپریشن فوکس حیرت، درستگی، جرات اور بے مثال منصوبہ بندی کا شاہکار تھا۔ دوسری طرف، یہ عرب قیادت، خاص طور پر مصر، کی غفلت، غرور، ناقص انٹیلی جنس اور دفاعی تیاریوں کی شدید کمی کی المناک داستان بھی ہے۔
یہ واقعہ ہمیں سکھاتا ہے کہ جدید جنگ میں فضائی برتری کتنی فیصلہ کن ہو سکتی ہے۔ یہ انٹیلی جنس کی طاقت، حیرت کے عنصر کی اہمیت اور ہر لمحہ چوکس رہنے کی ضرورت کو اجاگر کرتا ہے۔ "چھ روزہ جنگ" کا نام شاید ہی اس جنگ کی حقیقت کو بیان کرتا ہو، کیونکہ اس کا انجام تو پہلے ہی آدھے گھنٹے میں لکھ دیا گیا تھا۔ وہ آدھا گھنٹہ مشرق وسطیٰ کی تاریخ کا ایک ایسا موڑ ہے جس کے اثرات آج بھی خطے کی سیاست، تنازعات اور امیدوں پر محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ یہ تباہی صرف طیاروں اور اڈوں کی نہیں تھی؛ یہ ایک خواب، ایک غرور اور ایک سوچ کی تباہی تھی جس کے ملبے سے نکلنے کے لیے عرب دنیا کو دہائیوں تک جدوجہد کرنا پڑی۔


تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں