نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

لاہور میں جج کے چیمبر سے دو سیب کا مقدمہ درج: 'یہ پاکستان کی تاریخ کی سب سے بڑی چوری ہے۔

دو سیب اور ایک ہاتھ دھونے کی چوری کا مقدمہ درج، ایف آئی آر میں مسروقہ سامان کی مالیت 100 روپے درج کی گئی ہے۔

پنجاب کے شہر لاہور میں پولیس نے سیشن کورٹ کے جج کے چیمبر سے مبینہ طور پر دو سیب اور ہاتھ دھونے کا مقدمہ درج کر لیا ہے۔


اس معاملے کی ایف آئی آر جج کے ریڈر کی شکایت پر لاہور کے اسلام پورہ تھانے میں درج کی گئی ہے۔

لاہور کے اسلام پورہ تھانے کے ڈیوٹی افسر عمران خان نے بی بی سی کو بتایا کہ انہیں آپریشن ونگ کی جانب سے ایڈیشنل سیشن جج کے ریڈر کی جانب سے مقدمے کے اندراج کی درخواست موصول ہوئی تھی، جس پر انہوں نے ایف آئی آر درج کرائی تھی۔


انہوں نے کہا کہ اب ایف آئی آر کی کاپی اور متعلقہ ریکارڈ مزید کارروائی کے لیے انویسٹی گیشن ونگ کو بھیج دیا گیا ہے۔


اس کیس کی ایف آئی آر کے مطابق 5 دسمبر کو ایڈیشنل سیشن جج لاہور نور محمد بسمل کے چیمبر سے 2 سیب اور ایک ہاتھ دھونے کی بوتل چوری ہوئی تھی۔


اس کیس کے مدعی جو جج کی عدالت میں ریڈر کے طور پر تعینات ہیں، نے ایف آئی آر میں کہا ہے کہ جج نے اسے تھانے میں واقعہ کی رپورٹ کرنے کی ہدایت کی۔


لاہور پولیس نے پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 380 کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے۔


پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 380 چوری سے متعلق ہے۔ اس دفعہ کے تحت چوری کا جرم ثابت ہونے پر ملزم کو زیادہ سے زیادہ سات سال قید یا جرمانہ یا دونوں سزائیں ہو سکتی ہیں۔


ایف آئی آر میں کیس انویسٹی گیشن ونگ کے حوالے کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔

یہ کیسے ممکن ہے کہ اس نوعیت کی ایف آئی آر پاکستان میں درج ہو اور سوشل میڈیا پر اس کا چرچا نہ ہو۔


سوشل میڈیا پر صارفین جہاں دو سیب چوری اور ہاتھ دھونے کے مقدمے کے اندراج پر حیرت کا اظہار کر رہے ہیں وہیں بہت سے لوگ پاکستان کے نظام انصاف پر بھی سوالات اٹھا رہے ہیں۔


اسرار احم نامی صارف سوشل میڈیا ویب سائٹ ایکس پر لکھتا ہے کہ لاہور پولیس نے اس معاملے میں فوری طور پر ایف آئی آر درج کر لی ہے اور شاید چوری شدہ سیب اور ہاتھ دھونے کی وصولی کے لیے جے آئی ٹی بھی بنائی جائے۔


ان کا کہنا ہے کہ عام لوگ کہہ رہے ہیں کہ اگر ایسا ہی قانون شکن اور قانون شکنی کا رویہ کچے اور پکے گوشت کے ڈاکوؤں کے کیسوں میں دیکھا جائے تو پورا ملک سیدھا ہو جائے گا۔


ایک اور صارف نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بعض اوقات غریب لوگ اپنی ساری زندگی کی کمائی چوری کر کے بھی ایف آئی آر درج نہیں کروا پاتے۔


ایسے ہی کچھ خیالات کا اظہار حسن شبیر نامی صارف نے ان الفاظ میں کیا کہ ’عام عوام کے کروڑوں روپے کی چوری ہو جائے تو بھی پولیس ایف آئی آر درج کرنے سے گریز کرتی ہے تاہم جج سے دو سیب اور ہاتھ دھونے کی چوری پر پوری قوم سراپا احتجاج ہے‘۔


دوسری جانب حیدر مجید نامی صارف نے تفریح ​​سے باہر ہو کر اسے پاکستان کی تاریخ کی سب سے بڑی چوری قرار دیا۔


بہت سے سوشل میڈیا صارفین اس واقعے کا موازنہ چند روز قبل اسلام آباد میں سکوٹر پر سوار دو لڑکیوں کی گاڑی کی ٹکر سے ہونے والی ہلاکت سے کرتے ہوئے دیکھے گئے۔


وقاص خلیل نامی صارف نے لکھا کہ ایک طرف اسلام آباد میں اعلیٰ عدالتی اہلکار کا بیٹا مبینہ طور پر دو معصوم بچیوں پر چڑھ دوڑا لیکن قانون خاموش رہا، دوسری جانب جج کی عدالت سے صرف دو سیب چوری کرنے کا مقدمہ درج ہوا۔


رومال کی چوری پر بھی پولیس ایف آئی آر درج کرنے کی پابند ہے


تاہم دوسری جانب کچھ صارفین اس جانب توجہ مبذول کراتے رہے کہ چوری چوری ہے اور پولیس ہر چھوٹی چوری پر بھی ایف آئی آر درج کرنے کی پابند ہے۔


پاکستان پولیس کے ایک ریٹائرڈ انسپکٹر جنرل (آئی جی) محمد الطاف قمر نے کہا کہ واقعہ چاہے جرابوں کی چوری کا ہو یا رومال چرانے کا، ایف آئی آر درج کرنا پولیس کی ذمہ داری ہے۔


انہوں نے کہا کہ چھوٹے واقعات کو نظر انداز کیا جائے تو بڑے واقعات رونما ہوتے ہیں۔


دوسری جانب فوجداری قانون کی ماہر شکیلہ سلیم رانا ایڈووکیٹ کا کہنا ہے کہ ’جرم جرم ہے، چوری ایک روپے کی ہو یا ایک کروڑ روپے کی، ایسا جرم ہے جسے پکڑا جاسکتا ہے‘۔


تاہم، انہوں نے کہا کہ انصاف کا ایک ہی معیار سب کے لیے برابر ہونا چاہیے۔ یہ انصاف تمام لوگوں کو بلا تفریق ملنا چاہیے۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

پنجاب آرازی ریکارڈ سنٹرز کے پتے اور رابطہ نمبر (ARC's) Punjab Arazi Record Centers addresses and contact numbers

  (ARC's) ارازی ریکارڈ  سنٹرز کی تفصیلات پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی (PLRA) صوبے بھر میں تحصیل سطح پر اپنے 151 اراضی ریکارڈ سنٹرز، 59 قانونگوئی آرازی ریکارڈ سینٹرز (QARC's) اور 20 موبائل اراضی ریکارڈ سینٹرز (MARC's) کے ذریعے خدمات فراہم کر رہی ہے۔ ضلع حافظ آباد اے آر سی، تحصیل حافظ آباد ڈسٹرکٹ کورٹس کمپلیکس، ضلع حافظ آباد (042)-99093000 Ext: 58310 اے آر سی، تحصیل پنڈی بھٹیاں تحصیل کمپلیکس کی نئی عمارت، نزد جوڈیشل کمپلیکس، ضلع حافظ آباد (042)-99093000 Ext: 58210 اے آر سی، تحصیل حافظ آباد ونیکی تارڑ، یونائن کونسل آفس وانکی تارڑ، ضلع حافظ آباد (042)-99093000 Ext: 58110 قانونگوئی (جالاپور بھٹیاں)  اے آر سی یونین کونسل آفس دیہی علاقہ، بند روڈ، وزیرآباد روڈ، جلال پور بھٹیاں تحصیل پنڈی بھٹیاں، ضلع حافظ آباد ضلع بہاولپور بہاولپور سٹی ، کالی پلی سٹاپ ریسکیو 1122 آفس کے قریب، ائیرپورٹ روڈ، ضلع بہاولپور (042)-99093000 Ext: 62310 بہاولپور صدر نزد بغداد الجدید پولیس اسٹیشن، ائیرپورٹ روڈ، ضلع بہاولپور (042)-99093000 Ext: 62210 اے آر سی، تحصیل حاصل پور نزد پی ٹی سی ایل ایکسچینج، ضلع ب...

رمضان 2026: سب سے چھوٹے اور طویل ترین روزے کہاں ہیں؟

رمضان 2026: سب سے چھوٹے اور طویل ترین روزے کہاں ہیں؟ دنیا بھر میں رمضان المبارک کی آمد آمد ہے اور مسلمان بدھ (18 فروری) یا جمعرات (19 فروری) کو اپنا روزہ شروع کریں گے۔ تاریخیں اس بات پر منحصر ہوتی ہیں کہ آپ دنیا کے کس حصے میں رہتے ہیں۔ رمضان اسلامی کیلنڈر کا نواں مہینہ ہے اور مسلمانوں کے لیے اس کی بے حد اہمیت ہے۔ ہر سال لاکھوں مسلمان طلوعِ آفتاب سے غروبِ آفتاب تک روزہ رکھتے ہیں۔ اسلام میں روزہ ہجری کے دوسرے سال، یعنی پیغمبر اسلام کی مکہ سے مدینہ ہجرت کے دوسرے سال فرض کیا گیا۔ اس کے بعد سے دنیا بھر کے مسلمان اس عبادت کو ادا کر رہے ہیں۔ رمضان کا آغاز قمری کیلنڈر کے مطابق ہوتا ہے، اسی لیے گریگورین کیلنڈر میں اس کی تاریخ ہر سال تقریباً 11 دن پہلے آ جاتی ہے۔ جغرافیہ روزے کی مدت کو کیسے متاثر کرتا ہے؟ دن کے اجالے کے اوقات ہر مقام پر مختلف ہوتے ہیں اور یہ خطِ استوا سے فاصلے پر منحصر ہوتے ہیں۔ اس وقت جنوبی نصف کرہ میں موسمِ گرما ہے، اس لیے: دن لمبے ہیں راتیں چھوٹی ہیں ➡️ نتیجتاً روزے طویل ہوتے ہیں جبکہ شمالی نصف کرہ میں موسمِ سرما ہے: دن چھوٹے ہیں راتیں لمبی ہیں ➡️ روزے ن...

بناسپتی برانڈ ’ڈالڈا‘ کے مالک بشیر جان: اکاؤنٹنٹ سے ارب پتی بننے تک کا غیر معمولی سفر

پاکستان میں خوردنی تیل کی صنعت ایک بہت بڑی اور منافع بخش مارکیٹ بن چکی ہے، اور اس شعبے کا سب سے نمایاں اور طاقتور نام ایک ایسے شخص سے جڑا ہے جو نہ کسی روایتی سیٹھ گھرانے سے تعلق رکھتا ہے اور نہ ہی اس کا پس منظر کسی بڑے کاروباری خاندان سے ملتا ہے۔ یہ کہانی ہے بشیر جان محمد کی، جنہوں نے ایک عام اکاؤنٹنٹ کے طور پر کیریئر کا آغاز کیا اور بالآخر پاکستان کے ارب پتی کاروباری شخصیات میں شمار ہونے لگے۔ یہ ایک حیران کن حقیقت ہے کہ پاکستان میں خوردنی تیل کے کاروبار میں سب سے بڑا نام بننے والے بشیر جان محمد نے ابتدا میں کبھی بڑے کاروباری خواب نہیں دیکھے تھے۔ ان کی پیشہ ورانہ زندگی کا آغاز اکاؤنٹس ڈیپارٹمنٹ سے ہوا، مگر مستقل مزاجی، درست فیصلوں اور وقت پر ملنے والے مواقع نے ان کی زندگی کا رخ ہمیشہ کے لیے بدل دیا۔ ہجرت، جدوجہد اور نئی زندگی کا آغاز بشیر جان محمد کی پیدائش بھارت کے صوبہ گجرات کے ایک چھوٹے سے شہر بانٹوا میں ہوئی۔ قیام پاکستان کے بعد ان کا خاندان گجرات چھوڑ کر کراچی منتقل ہوا۔ تقسیم ہند کا وہ دور شدید بدامنی اور خوف سے بھرا ہوا تھا۔ بشیر جان کے مطابق، ان کے خاندان کو آخری لمحوں میں ...