نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

بناسپتی برانڈ ’ڈالڈا‘ کے مالک بشیر جان: اکاؤنٹنٹ سے ارب پتی بننے تک کا غیر معمولی سفر


پاکستان میں خوردنی تیل کی صنعت ایک بہت بڑی اور منافع بخش مارکیٹ بن چکی ہے، اور اس شعبے کا سب سے نمایاں اور طاقتور نام ایک ایسے شخص سے جڑا ہے جو نہ کسی روایتی سیٹھ گھرانے سے تعلق رکھتا ہے اور نہ ہی اس کا پس منظر کسی بڑے کاروباری خاندان سے ملتا ہے۔ یہ کہانی ہے بشیر جان محمد کی، جنہوں نے ایک عام اکاؤنٹنٹ کے طور پر کیریئر کا آغاز کیا اور بالآخر پاکستان کے ارب پتی کاروباری شخصیات میں شمار ہونے لگے۔

یہ ایک حیران کن حقیقت ہے کہ پاکستان میں خوردنی تیل کے کاروبار میں سب سے بڑا نام بننے والے بشیر جان محمد نے ابتدا میں کبھی بڑے کاروباری خواب نہیں دیکھے تھے۔ ان کی پیشہ ورانہ زندگی کا آغاز اکاؤنٹس ڈیپارٹمنٹ سے ہوا، مگر مستقل مزاجی، درست فیصلوں اور وقت پر ملنے والے مواقع نے ان کی زندگی کا رخ ہمیشہ کے لیے بدل دیا۔

ہجرت، جدوجہد اور نئی زندگی کا آغاز

بشیر جان محمد کی پیدائش بھارت کے صوبہ گجرات کے ایک چھوٹے سے شہر بانٹوا میں ہوئی۔ قیام پاکستان کے بعد ان کا خاندان گجرات چھوڑ کر کراچی منتقل ہوا۔ تقسیم ہند کا وہ دور شدید بدامنی اور خوف سے بھرا ہوا تھا۔ بشیر جان کے مطابق، ان کے خاندان کو آخری لمحوں میں پاکستان آنے کا فیصلہ کرنا پڑا کیونکہ حالات دن بدن خطرناک ہوتے جا رہے تھے۔

ان کے والد دہلی میں ملازمت کرتے تھے اور ہجرت کے دوران ان پر بھی حملہ ہوا، جس میں کئی افراد جان سے گئے، مگر خوش قسمتی سے وہ زندہ بچ گئے اور بعد میں پاکستان پہنچنے میں کامیاب ہو گئے۔ یہ واقعات بشیر جان کی شخصیت پر گہرے اثرات چھوڑ گئے اور ان میں صبر، احتیاط اور مستقبل کے لیے مضبوط منصوبہ بندی کی سوچ پیدا ہوئی۔

تعلیم، پیشہ ورانہ تربیت اور پہلا قدم

بشیر جان محمد نے 1956 میں میٹرک کا امتحان پاس کیا۔ اس کے بعد بی کام کیا، قانون کی تعلیم حاصل کی اور پھر چارٹرڈ اکاؤنٹنسی کا کورس مکمل کیا۔ تعلیم مکمل ہونے پر انہیں برما آئل ملز میں ملازمت کی پیشکش ہوئی، جہاں انہوں نے اکاؤنٹس ڈیپارٹمنٹ میں ماہانہ ایک ہزار روپے تنخواہ پر کام شروع کیا۔

اگرچہ ان کے والد چاہتے تھے کہ وہ وکیل بنیں، مگر بشیر جان نے عملی زندگی کو ترجیح دی۔ وقت کے ساتھ ساتھ انہیں پام آئل کے کاروبار میں دلچسپی پیدا ہوئی، خاص طور پر انڈونیشیا اور ملائیشیا جیسے ممالک سے سستا پام آئل درآمد کرنے کے امکانات نے ان کی توجہ حاصل کی۔

قومیانے کا دور اور کاروبار کا آغاز

1971 میں سقوط ڈھاکہ کے بعد جب بھٹو حکومت نے صنعتوں کو قومیانے کا عمل شروع کیا تو برما آئل ملز بھی اس کی زد میں آ گئی۔ یہی وہ وقت تھا جب بشیر جان محمد نے نوکری چھوڑ کر اپنا کاروبار شروع کرنے کا فیصلہ کیا۔

انہوں نے ابتدا ایک مڈل مین کے طور پر کی، مگر جلد ہی ان کی ملاقات ایک ایسی شخصیت سے ہوئی جس نے ان کی زندگی کا دھارا بدل دیا—ڈاکٹر مہاتیر محمد۔

ڈاکٹر مہاتیر محمد سے ملاقات: ایک فیصلہ کن موڑ

1974 میں بشیر جان ملائیشیا گئے اور وہاں مختلف اداروں سے ملاقات کی کوشش کی، مگر تین دن تک کوئی جواب نہ ملا۔ اسی دوران ایک دوست کی دعوت میں ان کی ملاقات ڈاکٹر مہاتیر محمد سے ہوئی، جو اس وقت ایک سرکاری ایجنسی کے سربراہ تھے اور بعد میں ملائیشیا کے وزیر اعظم بنے۔

ڈاکٹر مہاتیر نے نہ صرف ان کی ملاقات کا بندوبست کروایا بلکہ مستقبل میں بھی ان کی رہنمائی کی۔ لندن میں ہونے والی ایک اور ملاقات کے دوران دونوں کے درمیان گہری دوستی قائم ہوئی، جس نے بشیر جان کو پام آئل کے شعبے میں بڑے فیصلے کرنے کا حوصلہ دیا۔

پہلی فیکٹری اور پام آئل اسٹوریج کا انقلاب

1976 میں ڈاکٹر مہاتیر کے نائب وزیر اعظم بننے کے بعد بشیر جان کو ملائیشیا آنے کی دعوت دی گئی۔ وہاں انہیں پام آئل ریفائننگ اور اسٹوریج کے مواقع فراہم کیے گئے۔ اگرچہ ملائیشیا میں قرض پر شرح سود کم تھی، مگر بشیر جان نے بینکاری سے گریز کرتے ہوئے اپنی سرمایہ کاری سے 1980 میں کراچی میں پام آئل کی 20 ہزار ٹن کی اسٹوریج فیکٹری قائم کی۔

آج ان کے پاس تین لاکھ ٹن سے زائد اسٹوریج کی سہولت موجود ہے۔ اس پیش رفت نے پاکستان میں پام آئل کے استعمال کو عام کیا اور بناسپتی گھی کی تیاری میں پام آئل کا تناسب نمایاں طور پر بڑھ گیا۔

ڈالڈا کا خواب اور اس کی تکمیل

بشیر جان محمد کا ایک دیرینہ خواب تھا کہ وہ ڈالڈا برانڈ کے مالک بنیں۔ ان کے مطابق، یونی لیور کی دیگر مصنوعات میں منافع کا مارجن زیادہ تھا جبکہ خوردنی تیل میں کم، اس لیے انہیں یقین تھا کہ ایک دن یونی لیور یہ برانڈ فروخت کرے گا۔

بالآخر 2004 میں یہ خواب پورا ہوا جب 1.33 ارب روپے میں ڈالڈا ویسٹبری گروپ کے حوالے کر دیا گیا۔ بعد ازاں 2008 میں انہوں نے تلو برانڈ بھی خرید لیا، یوں ویسٹبری گروپ پاکستان کی خوردنی تیل مارکیٹ پر حاوی ہو گیا۔

کاروباری فلسفہ اور اصولی طرزِ عمل

بشیر جان محمد بینکاری اور غیر ضروری خطرات سے دور رہنے کے قائل ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ کاروبار میں دیانت، وعدے کی پاسداری اور طویل مدتی سوچ ہی اصل کامیابی کی کنجی ہے۔ زبیر طفیل اور جہانگیر صدیقی جیسے معروف صنعتکار بھی ان کی صاف گوئی اور اصول پسندی کی تعریف کرتے ہیں۔

پام آئل: کامیابی کے ساتھ ایک چیلنج

اگرچہ پام آئل نے بشیر جان کو کامیابی دی، مگر یہ پاکستان کے لیے درآمدی بوجھ بھی ہے۔ ہر سال اربوں ڈالر کا پام آئل درآمد کیا جاتا ہے۔ بشیر جان خود اس بات کو اس شعبے کی ناکامی قرار دیتے ہیں کہ پاکستان آج تک اپنے خوردنی تیل کی ضروریات مقامی سطح پر پوری نہیں کر سکا۔

ان کے مطابق، آئل سیڈ ڈویلپمنٹ کے کئی منصوبے بنے مگر عملی سنجیدگی کی کمی کے باعث کامیاب نہ ہو سکے۔

نتیجہ

بشیر جان محمد کی کہانی صرف ایک فرد کی کامیابی کی داستان نہیں بلکہ یہ پاکستان میں کاروباری مواقع، درست فیصلوں، بین الاقوامی تعلقات اور اصولی سوچ کی ایک زندہ مثال ہے۔ اکاؤنٹنٹ سے ارب پتی بننے تک کا یہ سفر ثابت کرتا ہے کہ بڑے خواب، مستقل محنت اور درست وقت پر درست فیصلے کسی بھی شخص کی تقدیر بدل سکتے ہیں۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

پنجاب آرازی ریکارڈ سنٹرز کے پتے اور رابطہ نمبر (ARC's) Punjab Arazi Record Centers addresses and contact numbers

  (ARC's) ارازی ریکارڈ  سنٹرز کی تفصیلات پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی (PLRA) صوبے بھر میں تحصیل سطح پر اپنے 151 اراضی ریکارڈ سنٹرز، 59 قانونگوئی آرازی ریکارڈ سینٹرز (QARC's) اور 20 موبائل اراضی ریکارڈ سینٹرز (MARC's) کے ذریعے خدمات فراہم کر رہی ہے۔ ضلع حافظ آباد اے آر سی، تحصیل حافظ آباد ڈسٹرکٹ کورٹس کمپلیکس، ضلع حافظ آباد (042)-99093000 Ext: 58310 اے آر سی، تحصیل پنڈی بھٹیاں تحصیل کمپلیکس کی نئی عمارت، نزد جوڈیشل کمپلیکس، ضلع حافظ آباد (042)-99093000 Ext: 58210 اے آر سی، تحصیل حافظ آباد ونیکی تارڑ، یونائن کونسل آفس وانکی تارڑ، ضلع حافظ آباد (042)-99093000 Ext: 58110 قانونگوئی (جالاپور بھٹیاں)  اے آر سی یونین کونسل آفس دیہی علاقہ، بند روڈ، وزیرآباد روڈ، جلال پور بھٹیاں تحصیل پنڈی بھٹیاں، ضلع حافظ آباد ضلع بہاولپور بہاولپور سٹی ، کالی پلی سٹاپ ریسکیو 1122 آفس کے قریب، ائیرپورٹ روڈ، ضلع بہاولپور (042)-99093000 Ext: 62310 بہاولپور صدر نزد بغداد الجدید پولیس اسٹیشن، ائیرپورٹ روڈ، ضلع بہاولپور (042)-99093000 Ext: 62210 اے آر سی، تحصیل حاصل پور نزد پی ٹی سی ایل ایکسچینج، ضلع ب...

شدید گرمی سے بچنا: پاکستان کے موسم گرما کے لیے رہنمائی

پاکستان کا موسم گرما ایک ایسی قوت ہے جو تشویشناک ہے۔ سندھ کی گرمی کی لہروں سے لے کر کراچی کے مرطوب ساحلی علاقوں اور پنجاب کے بنجر میدانوں تک، ملک میں انتہائی درجہ حرارت کا سامنا ہے جو اکثر 45 ° C (113 ° F) سے تجاوز کر جاتا ہے۔ موسم گرما جہاں تعطیلات، آموں اور تہوار کی شاموں کے مواقع لاتا ہے، وہیں یہ محفوظ اور صحت مند رہنے کے لیے بھی چوکسی کا تقاضا کرتا ہے۔ یہ گائیڈ پاکستان کے موسم گرما کی باریکیوں، ضروری احتیاطی تدابیر، حفاظتی اقدامات، اور عملی تقاضوں کو دریافت کرتا ہے تاکہ آپ کو اعتماد کے ساتھ موسم میں تشریف لے جانے میں مدد ملے۔ پاکستان کے سمر سیزن کو سمجھنا پاکستان کی آب و ہوا تمام خطوں میں نمایاں طور پر مختلف ہوتی ہے، لیکن گرمیاں عالمی سطح پر شدید ہوتی ہیں۔ موسم عام طور پر اپریل سے ستمبر تک رہتا ہے، مئی اور جولائی کے درمیان چوٹی کی گرمی کے ساتھ۔ یہاں کیا توقع کی جائے اس کی ایک خرابی ہے: درجہ حرارت کی انتہا : میدانی علاقے (پنجاب، سندھ، خیبرپختونخوا کے کچھ حصے): درجہ حرارت اکثر 40 ° C سے اوپر بڑھ جاتا ہے، جیکب آباد اور سبی جیسے شہروں میں ایشیاء میں سب سے زیادہ درجہ حرارت (50 ° C سے ...

واٹس ایپ کے نئے فیچرز جو آپ سے پوشیدہ ہیں – جانیں کہ انہیں کیسے استعمال کیا جائے۔

آج کی تیز رفتار دنیا میں، WhatsApp ہماری زندگی کا ایک لازمی حصہ بن گیا ہے۔ چاہے یہ دوستوں کے ساتھ ملنا ہو، کام کے مواصلات کا انتظام کرنا ہو، یا محض میمز کا اشتراک کرنا ہو، WhatsApp دنیا کو مربوط رکھتا ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ، واٹس ایپ نے صارف کے تجربے کو بڑھانے کے لیے مسلسل نئی اپ ڈیٹس متعارف کرائی ہیں۔ تاہم، ان میں سے بہت سی نئی خصوصیات اکثر اوسط صارف سے پوشیدہ رہتی ہیں! اگر آپ کو لگتا ہے کہ آپ WhatsApp کے بارے میں سب کچھ جانتے ہیں تو دوبارہ سوچیں۔ کچھ نئے اضافے کو مینو کے پیچھے ہٹا دیا جاتا ہے یا اپنی پوری صلاحیت کو غیر مقفل کرنے کے لیے تھوڑی سی کھدائی کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس بلاگ پوسٹ میں، ہم WhatsApp کی تازہ ترین پوشیدہ خصوصیات کا پتہ لگائیں گے اور آپ کو ان کو استعمال کرنے کا طریقہ دکھائیں گے — تاکہ آپ منحنی خطوط سے آگے رہ سکیں! 1. پیغام میں ترمیم کرنا: ٹائپنگ کی غلطیوں کو الوداع کہیں۔ کیا کبھی کوئی پیغام بھیجا اور فوری طور پر ٹائپنگ کی غلطی دیکھی؟ خوشخبری — واٹس ایپ اب آپ کو بھیجے گئے پیغامات میں ترمیم کرنے دیتا ہے! اسے استعمال کرنے کا طریقہ : جس پیغام میں آپ ترمیم کرنا چاہتے ہیں ...