نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

رمضان 2026: سب سے چھوٹے اور طویل ترین روزے کہاں ہیں؟


رمضان 2026: سب سے چھوٹے اور طویل ترین روزے کہاں ہیں؟

دنیا بھر میں رمضان المبارک کی آمد آمد ہے اور مسلمان بدھ (18 فروری) یا جمعرات (19 فروری) کو اپنا روزہ شروع کریں گے۔ تاریخیں اس بات پر منحصر ہوتی ہیں کہ آپ دنیا کے کس حصے میں رہتے ہیں۔

رمضان اسلامی کیلنڈر کا نواں مہینہ ہے اور مسلمانوں کے لیے اس کی بے حد اہمیت ہے۔ ہر سال لاکھوں مسلمان طلوعِ آفتاب سے غروبِ آفتاب تک روزہ رکھتے ہیں۔

اسلام میں روزہ ہجری کے دوسرے سال، یعنی پیغمبر اسلام کی مکہ سے مدینہ ہجرت کے دوسرے سال فرض کیا گیا۔ اس کے بعد سے دنیا بھر کے مسلمان اس عبادت کو ادا کر رہے ہیں۔

رمضان کا آغاز قمری کیلنڈر کے مطابق ہوتا ہے، اسی لیے گریگورین کیلنڈر میں اس کی تاریخ ہر سال تقریباً 11 دن پہلے آ جاتی ہے۔

جغرافیہ روزے کی مدت کو کیسے متاثر کرتا ہے؟

دن کے اجالے کے اوقات ہر مقام پر مختلف ہوتے ہیں اور یہ خطِ استوا سے فاصلے پر منحصر ہوتے ہیں۔

اس وقت جنوبی نصف کرہ میں موسمِ گرما ہے، اس لیے:

  • دن لمبے ہیں

  • راتیں چھوٹی ہیں
    ➡️ نتیجتاً روزے طویل ہوتے ہیں

جبکہ شمالی نصف کرہ میں موسمِ سرما ہے:

  • دن چھوٹے ہیں

  • راتیں لمبی ہیں
    ➡️ روزے نسبتاً کم دورانیے کے ہوتے ہیں

دنیا کے سب سے مختصر روزے

ناروے کے انتہائی شمالی شہر Longyearbyen میں رمضان کے آغاز پر روزہ صرف ڈھائی گھنٹے سے کچھ زیادہ ہوتا ہے، جو دن گزرنے کے ساتھ بڑھ کر ساڑھے بارہ گھنٹے تک پہنچ سکتا ہے۔

ایسے علاقوں میں اکثر مسلمان مکہ کے اوقات کے مطابق روزہ رکھنے کو ترجیح دیتے ہیں۔

دنیا کے شمالی حصوں میں:

  • سب سے طویل روزے جون کے آخر میں ہوتے ہیں

  • سب سے مختصر روزے دسمبر میں ہوتے ہیں

جنوبی نصف کرہ کی صورتحال

جنوبی علاقوں میں اس کے برعکس ہوتا ہے:

  • دسمبر کے قریب روزے لمبے ہو جاتے ہیں

  • جون کے قریب آتے آتے چھوٹے ہوتے جاتے ہیں

مسلم اکثریتی ممالک میں روزے کا دورانیہ

زیادہ تر عرب ممالک میں رمضان 2026 کے دوران روزے 12 سے 13 گھنٹے کے درمیان ہوں گے، جس کی وجہ سے یہ حالیہ برسوں کے نسبتاً معتدل رمضان میں شمار ہوگا۔

مسلمانوں کے مقدس ترین شہر Mecca میں روزہ تقریباً صبح 6:50 بجے شروع ہو کر شام 6:20 بجے ختم ہوگا، یعنی تقریباً ساڑھے گیارہ گھنٹے۔ مہینے کے اختتام تک اس میں آدھے گھنٹے کا اضافہ ہو جائے گا۔

Pakistan میں روزہ تقریباً 12 گھنٹے سے شروع ہو کر رمضان کے آخر تک 40 منٹ تک بڑھ جائے گا۔

جنوبی ممالک میں طویل روزے

جنوبی نصف کرہ میں رہنے والے مسلمانوں کے لیے روزے کا دورانیہ خاصا طویل ہوگا۔

مثال کے طور پر:

  • Buenos Aires میں روزہ دوپہر 1:15 بجے شروع ہوتا ہے

  • اسی طرح Auckland میں بھی وقت تقریباً یہی ہوتا ہے

تاہم رمضان کے اختتام تک دونوں شہروں میں روزے کے اوقات میں تقریباً ایک گھنٹے کی کمی آ جاتی ہے کیونکہ جنوبی نصف کرہ موسمِ سرما کی طرف بڑھ رہا ہوتا ہے اور دن تیزی سے چھوٹے ہو رہے ہوتے ہیں۔

اختتامی خیال

رمضان 2026 اس حقیقت کو خوبصورت انداز میں اجاگر کرتا ہے کہ دنیا کے مختلف حصوں میں رہنے والے مسلمان مختلف اوقات میں روزہ رکھتے ہوئے بھی ایک ہی روحانی مقصد سے جڑے ہوتے ہیں۔ کہیں روزہ چند گھنٹوں کا ہے اور کہیں پورا دن، مگر عبادت، صبر اور قربِ الٰہی کا جذبہ سب میں یکساں ہے۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

پنجاب آرازی ریکارڈ سنٹرز کے پتے اور رابطہ نمبر (ARC's) Punjab Arazi Record Centers addresses and contact numbers

  (ARC's) ارازی ریکارڈ  سنٹرز کی تفصیلات پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی (PLRA) صوبے بھر میں تحصیل سطح پر اپنے 151 اراضی ریکارڈ سنٹرز، 59 قانونگوئی آرازی ریکارڈ سینٹرز (QARC's) اور 20 موبائل اراضی ریکارڈ سینٹرز (MARC's) کے ذریعے خدمات فراہم کر رہی ہے۔ ضلع حافظ آباد اے آر سی، تحصیل حافظ آباد ڈسٹرکٹ کورٹس کمپلیکس، ضلع حافظ آباد (042)-99093000 Ext: 58310 اے آر سی، تحصیل پنڈی بھٹیاں تحصیل کمپلیکس کی نئی عمارت، نزد جوڈیشل کمپلیکس، ضلع حافظ آباد (042)-99093000 Ext: 58210 اے آر سی، تحصیل حافظ آباد ونیکی تارڑ، یونائن کونسل آفس وانکی تارڑ، ضلع حافظ آباد (042)-99093000 Ext: 58110 قانونگوئی (جالاپور بھٹیاں)  اے آر سی یونین کونسل آفس دیہی علاقہ، بند روڈ، وزیرآباد روڈ، جلال پور بھٹیاں تحصیل پنڈی بھٹیاں، ضلع حافظ آباد ضلع بہاولپور بہاولپور سٹی ، کالی پلی سٹاپ ریسکیو 1122 آفس کے قریب، ائیرپورٹ روڈ، ضلع بہاولپور (042)-99093000 Ext: 62310 بہاولپور صدر نزد بغداد الجدید پولیس اسٹیشن، ائیرپورٹ روڈ، ضلع بہاولپور (042)-99093000 Ext: 62210 اے آر سی، تحصیل حاصل پور نزد پی ٹی سی ایل ایکسچینج، ضلع ب...

بناسپتی برانڈ ’ڈالڈا‘ کے مالک بشیر جان: اکاؤنٹنٹ سے ارب پتی بننے تک کا غیر معمولی سفر

پاکستان میں خوردنی تیل کی صنعت ایک بہت بڑی اور منافع بخش مارکیٹ بن چکی ہے، اور اس شعبے کا سب سے نمایاں اور طاقتور نام ایک ایسے شخص سے جڑا ہے جو نہ کسی روایتی سیٹھ گھرانے سے تعلق رکھتا ہے اور نہ ہی اس کا پس منظر کسی بڑے کاروباری خاندان سے ملتا ہے۔ یہ کہانی ہے بشیر جان محمد کی، جنہوں نے ایک عام اکاؤنٹنٹ کے طور پر کیریئر کا آغاز کیا اور بالآخر پاکستان کے ارب پتی کاروباری شخصیات میں شمار ہونے لگے۔ یہ ایک حیران کن حقیقت ہے کہ پاکستان میں خوردنی تیل کے کاروبار میں سب سے بڑا نام بننے والے بشیر جان محمد نے ابتدا میں کبھی بڑے کاروباری خواب نہیں دیکھے تھے۔ ان کی پیشہ ورانہ زندگی کا آغاز اکاؤنٹس ڈیپارٹمنٹ سے ہوا، مگر مستقل مزاجی، درست فیصلوں اور وقت پر ملنے والے مواقع نے ان کی زندگی کا رخ ہمیشہ کے لیے بدل دیا۔ ہجرت، جدوجہد اور نئی زندگی کا آغاز بشیر جان محمد کی پیدائش بھارت کے صوبہ گجرات کے ایک چھوٹے سے شہر بانٹوا میں ہوئی۔ قیام پاکستان کے بعد ان کا خاندان گجرات چھوڑ کر کراچی منتقل ہوا۔ تقسیم ہند کا وہ دور شدید بدامنی اور خوف سے بھرا ہوا تھا۔ بشیر جان کے مطابق، ان کے خاندان کو آخری لمحوں میں ...