نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

52 کلو سونا، 230 کلو چاندی اور کروڑوں کی نقدی: ایک کانسٹیبل سے ایسی ضبطی کہ انکم ٹیکس حکام بھی حیران

جب بھارتی ریاست مدھیہ پردیش میں انکم ٹیکس حکام نے گزشتہ ہفتے ایک سرکاری اہلکار سوربھ شرما اور اس کے دوست چیتن سنگھ کے خلاف انکوائری شروع کی تو شاید انہیں اس بات کا اندازہ نہیں تھا کہ اس کیس کی تفصیلات اور خزانے کو ضبط کیا جائے گا۔ آنے والے دنوں میں حکام اتنے بڑے ہوں گے۔

حکومتی حکام نے گزشتہ ہفتے ایک کارروائی کے دوران دونوں دوستوں کے قبضے سے 52 کلو سونا، 230 کلو چاندی اور 17 کروڑ روپے نقد برآمد کیے تھے۔

محکمہ انکم ٹیکس فی الحال چیتن سے اس معاملے میں مزید پوچھ گچھ کر رہا ہے، جبکہ مرکزی ملزم سوربھ مفرور ہے اور اس کی تلاش جاری ہے۔

سوربھ نے 2016 میں مدھیہ پردیش کے ٹرانسپورٹ ڈپارٹمنٹ میں بطور کانسٹیبل شمولیت اختیار کی تھی۔تھوڑے ہی عرصے میں کروڑوں روپے کا مالک بننے والے سوربھ کی زندگی کسی بھی فلم کی طرح ہے۔

پارلیمانی محتسب کے ڈائریکٹر جیدیپ پرساد نے بتایا کہ کانسٹیبل سوربھ کے خلاف 18 دسمبر کو غیر قانونی اور غیر متناسب اثاثوں کا معاملہ درج کیا گیا تھا اور اس کی گرفتاری کے لیے فی الحال چھاپے مارے جا رہے ہیں۔

ڈرامائی چھاپے اور کروڑوں کی ریکوری

20 دسمبر (جمعرات) کی رات حکام کو بھوپال کے ایک جنگل میں ایک کار لاوارث حالت میں کھڑی ملی۔ انکم ٹیکس ڈپارٹمنٹ کو اس کار کی موجودگی کی اطلاع دی گئی تھی کیونکہ یہ تحقیقات کے سلسلے میں مطلوب تھی۔ کار کی تلاشی لی گئی تو اس میں سے 52 کلو سونا اور 10 کروڑ کی نقدی برآمد ہوئی۔

گاڑی کی نمبر پلیٹ چیک کی گئی تو پتہ چلا کہ یہ چیتن سنگھ نامی شخص کی ہے۔

بھارتی حکام کو معلوم تھا کہ چیتن مدھیہ پردیش میں محکمہ ٹرانسپورٹ میں کانسٹیبل سوربھ کا ساتھی تھا۔ اس کے بعد پارلیمانی محتسب نے سوربھ اور چیتن کے گھروں پر چھاپہ مارا اور مزید 230 کلو چاندی اور کروڑوں روپے کی نقدی برآمد کی۔

جے دیپ پرساد کہتے ہیں، ’’ہمیں کانسٹیبل سوربھ شرما کے خلاف شکایات موصول ہو رہی تھیں۔ ہم نے پہلے ان شکایات کی تصدیق کی اور پھر عدالت سے سرچ وارنٹ حاصل کئے۔

اس کے بعد سوربھ شرما کے گھر پر چھاپہ مارا گیا، جہاں چیتن سنگھ کا دفتر بھی واقع ہے۔

پارلیمانی محتسب کے ڈائریکٹر کا کہنا ہے کہ سوربھ ابھی تک مفرور ہے اور اس کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔

سوربھ: محکمہ ٹرانسپورٹ میں کانسٹیبل کی بھرتی

سوربھ شرما مدھیہ پردیش کے گوالیار میں ایک متوسط ​​گھرانے میں پیدا ہوئے اور 2016 میں سروس کے دوران فوت ہونے پر اپنے والد کی جگہ ٹرانسپورٹ ڈیپارٹمنٹ میں ملازمت حاصل کی۔

سوربھ کے والد اپنی موت سے پہلے مدھیہ پردیش کے محکمہ صحت میں کام کر رہے تھے، لیکن وہاں کوئی آسامیاں خالی نہیں تھیں، اس لیے حکومت نے ان کے بیٹے سوربھ کو محکمہ ٹرانسپورٹ میں نوکری دے دی۔

ٹرانسپورٹ ڈپارٹمنٹ کے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ صرف سات سالوں میں سوربھ نے ٹرانسپورٹ ڈپارٹمنٹ کی چیک پوسٹوں کے لیے درجنوں ٹھیکے حاصل کیے اور بہت بڑی دولت کمانے میں کامیاب رہے۔

اس سال جب مدھیہ پردیش حکومت نے ریاست میں چیک پوسٹوں کو بند کیا تو کل تعداد 47 تھی۔ کئی افسران کا دعویٰ ہے کہ سوربھ نے ان چیک پوسٹوں میں سے آدھے سے زیادہ کا ٹھیکہ جیت لیا تھا۔

ٹرانسپورٹ ڈپارٹمنٹ کے ایک اہلکار نے مزید بتایا کہ نوکری ملنے کے ایک سال کے اندر سوربھ نے محکمہ میں اچھے تعلقات بنائے تھے اور پھر اسے چیک پوسٹ ڈپارٹمنٹ میں ٹرانسفر کر دیا گیا تھا۔

افسر کے مطابق سوربھ نے بہت کم وقت میں کئی ٹھیکے جیتے اور بھاری رقم کمائی۔

پارلیمانی محتسب کے مطابق، انہیں سوربھ کے گھر سے 79.8 ملین روپے سے زائد کی اشیاء ملی ہیں، جن میں کرنسی، ہیرے اور کاریں شامل ہیں۔

پارلیمانی محتسب کے ایک اور افسر کے مطابق سوربھ نے 2023 میں وی آر ایس کار خریدی تھی اور اس نے ریئل اسٹیٹ کا کاروبار بھی شروع کیا تھا۔

اس افسر کے مطابق سوربھ اور چیتن بہت گہرے دوست ہیں۔

'سوربھ اور چیتن اچھے دوست ہیں اور دونوں کا تعلق چمبل نامی علاقے سے ہے۔ تحقیقات کے دوران چیتن نے کہا کہ اسے نوکری کی ضرورت تھی اور سوربھ نے اسے نوکری پر رکھا تھا۔'

پارلیمانی محتسب افسر کا مزید کہنا ہے کہ 'بھوپال کے جنگل میں جو کار برآمد ہوئی ہے وہ چیتن کے نام پر تھی، لیکن چیتن کا کہنا ہے کہ یہ کار دراصل سوربھ کے زیر استعمال تھی۔'

محکمہ ٹرانسپورٹ کے ملازمین سوربھ اور اس کے خاندان کے بارے میں بات کرنے سے گریزاں ہیں۔

سوربھ کا ایک بھائی چھتیس گڑھ میں سرکاری ملازمت کرتا ہے۔ پارلیمانی محتسب کے مطابق سوربھ کے خاندان کا کہنا ہے کہ وہ اس وقت ممبئی میں ہیں۔

گوالیار کے ایک اور سرکاری افسر کا کہنا ہے کہ گوالیار کے رہائشی علاقوں میں کئی جائیدادیں بھی سوربھ کے نام پر رجسٹرڈ ہیں۔

گوالیار میں سوربھ کے گھر کو سیل کر دیا گیا ہے جبکہ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے بھی سوربھ اور اس کے دوست چیتن کے خلاف منی لانڈرنگ ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا ہے۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

پنجاب آرازی ریکارڈ سنٹرز کے پتے اور رابطہ نمبر (ARC's) Punjab Arazi Record Centers addresses and contact numbers

  (ARC's) ارازی ریکارڈ  سنٹرز کی تفصیلات پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی (PLRA) صوبے بھر میں تحصیل سطح پر اپنے 151 اراضی ریکارڈ سنٹرز، 59 قانونگوئی آرازی ریکارڈ سینٹرز (QARC's) اور 20 موبائل اراضی ریکارڈ سینٹرز (MARC's) کے ذریعے خدمات فراہم کر رہی ہے۔ ضلع حافظ آباد اے آر سی، تحصیل حافظ آباد ڈسٹرکٹ کورٹس کمپلیکس، ضلع حافظ آباد (042)-99093000 Ext: 58310 اے آر سی، تحصیل پنڈی بھٹیاں تحصیل کمپلیکس کی نئی عمارت، نزد جوڈیشل کمپلیکس، ضلع حافظ آباد (042)-99093000 Ext: 58210 اے آر سی، تحصیل حافظ آباد ونیکی تارڑ، یونائن کونسل آفس وانکی تارڑ، ضلع حافظ آباد (042)-99093000 Ext: 58110 قانونگوئی (جالاپور بھٹیاں)  اے آر سی یونین کونسل آفس دیہی علاقہ، بند روڈ، وزیرآباد روڈ، جلال پور بھٹیاں تحصیل پنڈی بھٹیاں، ضلع حافظ آباد ضلع بہاولپور بہاولپور سٹی ، کالی پلی سٹاپ ریسکیو 1122 آفس کے قریب، ائیرپورٹ روڈ، ضلع بہاولپور (042)-99093000 Ext: 62310 بہاولپور صدر نزد بغداد الجدید پولیس اسٹیشن، ائیرپورٹ روڈ، ضلع بہاولپور (042)-99093000 Ext: 62210 اے آر سی، تحصیل حاصل پور نزد پی ٹی سی ایل ایکسچینج، ضلع ب...

رمضان 2026: سب سے چھوٹے اور طویل ترین روزے کہاں ہیں؟

رمضان 2026: سب سے چھوٹے اور طویل ترین روزے کہاں ہیں؟ دنیا بھر میں رمضان المبارک کی آمد آمد ہے اور مسلمان بدھ (18 فروری) یا جمعرات (19 فروری) کو اپنا روزہ شروع کریں گے۔ تاریخیں اس بات پر منحصر ہوتی ہیں کہ آپ دنیا کے کس حصے میں رہتے ہیں۔ رمضان اسلامی کیلنڈر کا نواں مہینہ ہے اور مسلمانوں کے لیے اس کی بے حد اہمیت ہے۔ ہر سال لاکھوں مسلمان طلوعِ آفتاب سے غروبِ آفتاب تک روزہ رکھتے ہیں۔ اسلام میں روزہ ہجری کے دوسرے سال، یعنی پیغمبر اسلام کی مکہ سے مدینہ ہجرت کے دوسرے سال فرض کیا گیا۔ اس کے بعد سے دنیا بھر کے مسلمان اس عبادت کو ادا کر رہے ہیں۔ رمضان کا آغاز قمری کیلنڈر کے مطابق ہوتا ہے، اسی لیے گریگورین کیلنڈر میں اس کی تاریخ ہر سال تقریباً 11 دن پہلے آ جاتی ہے۔ جغرافیہ روزے کی مدت کو کیسے متاثر کرتا ہے؟ دن کے اجالے کے اوقات ہر مقام پر مختلف ہوتے ہیں اور یہ خطِ استوا سے فاصلے پر منحصر ہوتے ہیں۔ اس وقت جنوبی نصف کرہ میں موسمِ گرما ہے، اس لیے: دن لمبے ہیں راتیں چھوٹی ہیں ➡️ نتیجتاً روزے طویل ہوتے ہیں جبکہ شمالی نصف کرہ میں موسمِ سرما ہے: دن چھوٹے ہیں راتیں لمبی ہیں ➡️ روزے ن...

بناسپتی برانڈ ’ڈالڈا‘ کے مالک بشیر جان: اکاؤنٹنٹ سے ارب پتی بننے تک کا غیر معمولی سفر

پاکستان میں خوردنی تیل کی صنعت ایک بہت بڑی اور منافع بخش مارکیٹ بن چکی ہے، اور اس شعبے کا سب سے نمایاں اور طاقتور نام ایک ایسے شخص سے جڑا ہے جو نہ کسی روایتی سیٹھ گھرانے سے تعلق رکھتا ہے اور نہ ہی اس کا پس منظر کسی بڑے کاروباری خاندان سے ملتا ہے۔ یہ کہانی ہے بشیر جان محمد کی، جنہوں نے ایک عام اکاؤنٹنٹ کے طور پر کیریئر کا آغاز کیا اور بالآخر پاکستان کے ارب پتی کاروباری شخصیات میں شمار ہونے لگے۔ یہ ایک حیران کن حقیقت ہے کہ پاکستان میں خوردنی تیل کے کاروبار میں سب سے بڑا نام بننے والے بشیر جان محمد نے ابتدا میں کبھی بڑے کاروباری خواب نہیں دیکھے تھے۔ ان کی پیشہ ورانہ زندگی کا آغاز اکاؤنٹس ڈیپارٹمنٹ سے ہوا، مگر مستقل مزاجی، درست فیصلوں اور وقت پر ملنے والے مواقع نے ان کی زندگی کا رخ ہمیشہ کے لیے بدل دیا۔ ہجرت، جدوجہد اور نئی زندگی کا آغاز بشیر جان محمد کی پیدائش بھارت کے صوبہ گجرات کے ایک چھوٹے سے شہر بانٹوا میں ہوئی۔ قیام پاکستان کے بعد ان کا خاندان گجرات چھوڑ کر کراچی منتقل ہوا۔ تقسیم ہند کا وہ دور شدید بدامنی اور خوف سے بھرا ہوا تھا۔ بشیر جان کے مطابق، ان کے خاندان کو آخری لمحوں میں ...