بیسویں صدی کے آغاز سے قبل کی دنیا آج کے مقابلے میں کہیں زیادہ پراسرار اور خطرناک تھی۔ اس دور میں مہم جوئی کا مطلب صرف سیاحت نہیں بلکہ اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر انجان وادیوں اور ممنوعہ خطوں کی خاک چھاننا تھا۔ جب ہم تاریخ کے اوراق پلٹتے ہیں، تو ایک ایسی شخصیت کا نام ابھرتا ہے جس کی زندگی کسی سنسنی خیز فلمی کہانی سے کم نہیں۔ یہ نام ہے سر رچرڈ فرانسس برٹن کا۔
رچرڈ برٹن محض ایک برطانوی فوجی یا مہم جو نہیں تھا، بلکہ وہ ایک بے مثل ماہرِ لسانیات، مترجم، جاسوس اور وہ پہلا غیر مسلم تھا جس نے کمالِ ہوشیاری سے مکہ اور مدینہ کی زیارت کی اور حجرِ اسود کو بوسہ دینے کا دعویٰ کیا۔
لسانیات کا جادوگر: 26 زبانوں پر عبور
رچرڈ برٹن کی سب سے بڑی طاقت اس کی زبان دانی تھی۔ وہ ایک "پولی گلۆٹ" (Polyglot) تھا جسے نہ صرف زبانیں سیکھنے کا جنون تھا بلکہ وہ ان کے لہجوں اور ثقافتی باریکیوں کو بھی جذب کر لیتا تھا۔
زبانوں کا تنوع: برٹن کو اردو، فارسی، عربی، ہندی، سندھی، پنجابی، مرہٹی، اور کئی یورپی و افریقی زبانوں سمیت 26 زبانوں اور ان کے درجنوں لہجوں پر مکمل دسترس حاصل تھی۔
سندھ میں قیام: برٹن نے اپنی جوانی کا بڑا حصہ ہندوستان (موجودہ پاکستان کے صوبہ سندھ) میں گزارا۔ یہاں اس نے نہ صرف اردو اور سندھی سیکھی بلکہ وہ مقامی لوگوں میں اس قدر رچ بس گیا کہ ایک صوفی درویش کا روپ دھار کر بازاروں میں گھوما کرتا تاکہ لوگوں کی اصل زندگی کا مشاہدہ کر سکے۔
ترجمہ نگاری: اس نے ’الف لیلہ و لیلہ‘ (The Arabian Nights) کا انگریزی میں وہ شاہکار ترجمہ کیا جو آج بھی اپنی مثال آپ ہے۔
مکہ کا ممنوعہ سفر: ایک خطرناک مشن
1853ء میں رچرڈ برٹن نے ایک ایسا فیصلہ کیا جس نے پوری دنیا کو حیران کر دیا۔ اس دور میں مکہ اور مدینہ غیر مسلموں کے لیے مکمل طور پر ممنوع تھے اور پکڑے جانے کی صورت میں موت یقینی تھی۔ برٹن نے اس خطرے کو جانتے ہوئے ایک افغان مسلمان "مرزا عبداللہ" کا روپ دھارا۔
بھیس بدلنے کا فن
برٹن جانتا تھا کہ صرف لباس بدلنا کافی نہیں ہے۔ اس نے اپنی رنگت کو اخروٹ کے عرق سے گہرا کیا، ختنہ کروایا، اور نماز و عبادات کے تمام طریقے اس طرح سیکھے کہ کوئی کٹر مسلمان بھی اس پر شک نہ کر سکے۔ اس نے داڑھی بڑھائی اور عربی لہجے میں اس قدر مہارت حاصل کی کہ وہ ایک پختون حاجی معلوم ہوتا تھا۔
سفرِ حجاز
وہ اسکندریہ سے ہوتا ہوا قاہرہ پہنچا اور وہاں سے ایک چھوٹے سے جہاز کے ذریعے ینبع اور پھر مدینہ منورہ پہنچا۔ اس نے اپنے اس پورے سفر کی ڈائری چھپا کر لکھی، جسے وہ اکثر اپنے کپڑوں میں چھپا کر رکھتا تھا۔ اس کا یہ سفر صرف ایک سیاح کا سفر نہیں تھا بلکہ ایک جاسوس کا مشاہدہ تھا جس نے حجاز کے جغرافیے، لوگوں کے رہن سہن اور مذہبی رسومات کو باریکی سے نوٹ کیا۔
حجرِ اسود کا بوسہ اور جذباتی کیفیت
جب رچرڈ برٹن مکہ پہنچا اور خانہ کعبہ پر اس کی پہلی نظر پڑی، تو اس نے اپنی یادداشتوں میں لکھا کہ وہ منظر اس کے لیے سحر انگیز تھا۔ طواف کے دوران اس نے وہ کام کیا جو کسی غیر مسلم کے لیے نامکن سمجھا جاتا تھا: اس نے حجرِ اسود کو بوسہ دیا۔
برٹن لکھتا ہے:
"میں نے ازدحام کے باوجود اپنا راستہ بنایا اور اس مقدس پتھر تک پہنچ گیا جسے لاکھوں مسلمان عقیدت سے چومتے ہیں۔ اس لمحے مجھے ایک عجیب سے ہیجان اور خوف کا احساس تھا، لیکن میری اداکاری اتنی مکمل تھی کہ کسی کو شبہ تک نہ ہوا کہ ان کے درمیان ایک برطانوی جاسوس کھڑا ہے۔"
ایک مہم جو کی بے چین روح
رچرڈ برٹن کی زندگی مکہ تک محدود نہیں رہی۔ اس نے افریقہ کے دل میں دریائے نیل کے منبع (Source of Nile) کی تلاش میں مہینوں گزارے، صومالیہ کے خطرناک علاقوں کا دورہ کیا اور دنیا کو وہ معلومات فراہم کیں جو اس سے پہلے کسی مغربی محقق کے پاس نہیں تھیں۔
وہ ایک ایسا انسان تھا جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ:
وہ بیک وقت ایک فوجی تھا۔
ایک ماہرِ بشریات (Anthropologist) تھا۔
ایک ایسا مترجم جس نے مشرق کے ادب کو مغرب تک پہنچایا۔
برٹن کی شخصیت کے تضادات
رچرڈ برٹن ایک متنازع شخصیت بھی رہے۔ برطانوی اشرافیہ انہیں ان کے باغیانہ خیالات کی وجہ سے زیادہ پسند نہیں کرتی تھی۔ وہ وکٹورین دور کے سخت سماجی قوانین کو نہیں مانتے تھے اور اکثر مشرق کی "آزاد خیالی" کی تعریف کیا کرتے تھے۔ ان کی اہلیہ، ازابیل برٹن، ان سے بے پناہ محبت کرتی تھیں لیکن رچرڈ کی وفات کے بعد انہوں نے ان کی کئی ایسی تحریریں جلا دیں جو ان کے خیال میں سماج کے لیے "ناقابلِ قبول" تھیں۔
تاریخ میں مقام اور ورثہ
آج رچرڈ برٹن کو ایک ایسے پل کے طور پر یاد کیا جاتا ہے جس نے مشرق اور مغرب کے درمیان حائل لسانی اور ثقافتی خلیج کو پاٹنے کی کوشش کی۔ اگرچہ ان کے مکہ کے سفر کے پیچھے نوآبادیاتی مقاصد (Colonial Interests) بھی ہو سکتے تھے، لیکن ان کی ہمت، لسانی مہارت اور مشاہدے کی داد نہ دینا ناانصافی ہوگی۔
ان کی کتاب "Personal Narrative of a Pilgrimage to Al-Madinah and Meccah" آج بھی سفرناموں کی دنیا میں ایک کلاسک کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہ کتاب نہ صرف ایک مہم جوئی کی داستان ہے بلکہ 19ویں صدی کے حجاز کی ایک مکمل دستاویزی فلم کی طرح ہے۔
حاصلِ کلام
رچرڈ برٹن کی زندگی ہمیں سکھاتی ہے کہ انسانی تجسس کی کوئی سرحد نہیں ہوتی۔ ایک انسان اگر چاہے تو اپنی محنت اور لگن سے 26 زبانیں بھی سیکھ سکتا ہے اور موت کے سائے میں بھی دنیا کے مشکل ترین مقامات تک پہنچ سکتا ہے۔ وہ ایک ایسا "مسافر" تھا جس نے ساری زندگی سچ اور مہم جوئی کی تلاش میں گزاری، اور تاریخ کے سینے پر اپنے نقشِ قدم ہمیشہ کے لیے چھوڑ دیے۔
مجھے دراز (Daraz) پر یہ بہترین ڈیل ملی ہے! اسے ضرور دیکھیں!
پروڈکٹ کا نام: نیا ٹرینڈی 🔥 ڈی ٹی ایف (مضبوط اور نہ ٹوٹنے والا ریفلیکٹر پرنٹڈ) مردوں کے لیے گرمیوں کا ٹریک سوٹ _ نرم اور آرام دہ کپڑا - مردوں کے لیے پریمیم ٹی شرٹ اور ٹراؤزر سیٹ پرنٹڈ سمر ٹریک سوٹ _ لڑکوں کے لیے ٹریک سوٹ۔ (مختلف رنگوں میں دستیاب)
اصل قیمت: 3,599 روپے رعایتی قیمت: 999 روپے
اس زبردست ڈیل (سودے) کو حاصل کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔
https://s.daraz.pk/s.1A0AA?cc

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں