نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

سائنسدان رات کے وقت سورج کی روشنی سے بجلی پیدا کرنے میں کامیاب: توانائی کی دنیا میں ایک نیا انقلاب

انسانی تاریخ میں جب بھی توانائی کے بحران کا ذکر ہوتا ہے، تو سب سے پہلے ذہن میں "سولر پینلز" کا خیال آتا ہے۔ لیکن سولر انرجی کے ساتھ ہمیشہ سے ایک بڑا مسئلہ وابستہ رہا ہے: سورج غروب ہوتے ہی بجلی بننا بند ہو جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمیں بیٹریوں پر انحصار کرنا پڑتا ہے جو کہ مہنگی اور ماحول کے لیے کسی حد تک نقصان دہ بھی ہو سکتی ہیں۔

لیکن کیا ہو اگر میں آپ کو بتاؤں کہ اب رات کے اندھیرے میں بھی سورج کی تپش سے بجلی بنائی جا سکتی ہے؟ جی ہاں، یہ کوئی سائنس فکشن فلم کا منظر نہیں بلکہ جدید سائنس کا وہ معجزہ ہے جس نے حال ہی میں دنیا کو حیران کر دیا ہے۔

کیا ہے؟ اس ایجاد کا پس منظر Thermal Radiation     

عام سولر پینل سورج کی براہ راست روشنی (Photons) کو بجلی میں تبدیل کرتے ہیں۔ لیکن رات کے وقت جب سورج غائب ہوتا ہے، تو زمین وہ حرارت خارج کرنا شروع کر دیتی ہے جو اس نے دن بھر جذب کی ہوتی ہے۔ یہ حرارت انفراریڈ شعاعوں (Infrared Radiation) کی صورت میں خلا کی طرف جاتی ہے۔

سائنسدانوں نے اسی نکتے کو پکڑا۔ انہوں نے سوچا کہ اگر ہم ایسی ڈیوائس بنا لیں جو زمین سے نکلنے والی اس "غیر مرئی" (Invisible) حرارت کو پکڑ کر بجلی میں بدل دے، تو رات کا اندھیرا بھی روشن ہو سکتا ہے۔

یہ ٹیکنالوجی کام کیسے کرتی ہے؟

اس نئی ایجاد کے پیچھے تھرمو ریڈی ایٹو ڈائیوڈ (Thermo-radiative Diode) کا تصور کارفرما ہے۔ یہ ایک ایسا سیمی کنڈکٹر آلہ ہے جو بالکل سولر پینل کے الٹ کام کرتا ہے۔

دن کا عمل: سولر پینل سورج کی روشنی جذب کرتا ہے اور اسے بجلی میں بدلتا ہے۔

رات کا عمل: یہ نیا آلہ زمین کی حرارت کو جذب کرتا ہے جو خلا کی ٹھنڈک کی طرف سفر کر رہی ہوتی ہے۔ جب یہ حرارت اس آلے سے گزرتی ہے، تو بجلی کے الیکٹرانز میں حرکت پیدا ہوتی ہے، جس سے کرنٹ پیدا ہوتا ہے۔

اسے سادہ الفاظ میں "اینٹی سولر پینل" (Anti-Solar Panel) بھی کہا جا رہا ہے۔

اس اہم کامیابی کے پیچھے کون ہے؟

اس ٹیکنالوجی پر دنیا بھر میں کام ہو رہا ہے، لیکن حالیہ بڑی پیش رفت یونیورسٹی آف نیو ساؤتھ ویلز (UNSW) کے محققین اور امریکہ کی اسٹینفورڈ یونیورسٹی کی ٹیموں نے کی ہے۔ آسٹریلوی سائنسدانوں نے ایک ایسا خاص مواد تیار کیا ہے جو انفراریڈ روشنی کو بہت تیزی سے بجلی میں بدلنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

اگرچہ ابھی یہ بجلی کی مقدار بہت کم ہے (تقریباً ایک عام سولر پینل کا 10واں حصہ)، لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ صرف شروعات ہے۔

رات کو بجلی بنانے کے بڑے فوائد

اس ٹیکنالوجی کے عام ہونے سے انسانی زندگی پر جو اثرات مرتب ہوں گے، وہ ناقابل یقین ہیں:

1. بیٹریوں سے نجات

فی الحال شمسی توانائی کو رات کے لیے ذخیرہ کرنے کے لیے بڑی اور مہنگی لیتھیم بیٹریوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر رات کو براہ راست بجلی بننا شروع ہو جائے، تو بیٹریوں پر انحصار کم ہو جائے گا، جس سے سولر سسٹم کی قیمت آدھی رہ جائے گی۔

2. 24 گھنٹے بلا تعطل سپلائی

صنعتوں اور ہسپتالوں کے لیے یہ ٹیکنالوجی کسی نعمت سے کم نہیں۔ اب انہیں سورج ڈھلنے کے بعد گرڈ یا مہنگے جنریٹر پر شفٹ ہونے کی فکر نہیں رہے گی۔

3. ماحولیاتی تحفظ

چونکہ یہ عمل مکمل طور پر قدرتی حرارت پر مبنی ہے، اس لیے اس میں کاربن کا اخراج صفر ہے۔ یہ زمین کے بڑھتے ہوئے درجہ حرارت (Global Warming) کو روکنے میں کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے۔

چیلنجز اور مستقبل کی راہ

جہاں یہ ایجاد امید کی کرن ہے، وہیں کچھ رکاوٹیں بھی موجود ہیں۔

کم کارکردگی (Efficiency): فی الحال یہ ٹیکنالوجی اتنی بجلی پیدا نہیں کر رہی کہ ایک پورا گھر چلایا جا سکے۔ ابھی یہ صرف چھوٹے سینسرز یا ایل ای ڈی بلب روشن کرنے کے قابل ہے۔

پیداواری لاگت: اس میں استعمال ہونے والے مواد (جیسے مرکری کیڈمیم ٹیلورائڈ) فی الحال کافی مہنگے ہیں۔

تاہم، سائنسدان پرامید ہیں۔ جس طرح 1970 کی دہائی میں پہلے سولر پینل کی کارکردگی صرف 1 فیصد تھی اور آج وہ 25 فیصد تک پہنچ چکی ہے، اسی طرح "نائٹ سولر" بھی اگلے چند برسوں میں ہمارے گھروں کی چھتوں پر نظر آئے گا۔

کیا یہ عام سولر پینلز کی جگہ لے لے گا؟

ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ پرانے سولر پینلز کو ختم نہیں کرے گا بلکہ ان کے ساتھ مل کر کام کرے گا۔ مستقبل کے سولر پینلز "ہائبرڈ" ہوں گے، جو دن کو سورج کی روشنی سے اور رات کو زمین کی تپش سے بجلی بنائیں گے۔

"یہ ایجاد توانائی کے حصول کے روایتی طریقوں کو بدل کر رکھ دے گی۔ ہم اب صرف سورج کے نکلنے کے منتظر نہیں رہیں گے، بلکہ کائنات کی ٹھنڈک کو بجلی بنانے کے لیے استعمال کریں گے۔" — (ایک نامور محقق کا قول)

نتیجہ

سائنسدانوں کی یہ کامیابی ثابت کرتی ہے کہ انسانی عقل کی کوئی سرحد نہیں۔ جس اندھیرے کو ہم کام کی بندش سمجھتے تھے، اب وہی اندھیرا ہمارے بلب روشن کرنے کا ذریعہ بنے گا۔ پاکستان جیسے ممالک کے لیے، جہاں بجلی کا بحران اور لوڈ شیڈنگ ایک سنگین مسئلہ ہے، ایسی ٹیکنالوجی کسی معجزے سے کم نہیں۔

وہ وقت دور نہیں جب راتیں بھی اتنی ہی روشن ہوں گی جتنا کہ دن، اور وہ بھی کسی اضافی خرچ کے بغیر۔

آپ کا کیا خیال ہے؟ کیا نائٹ سولر پینلز پاکستان میں بجلی کا بحران ختم کر پائیں گے؟ اپنی رائے کمنٹس میں ضرور دیں۔

🔥 اب ہر اسٹائل میں نظر آئیں سب سے منفرد! 🔥

کیا آپ گرمیوں کے لیے ایک ایسا ٹریک سوٹ ڈھونڈ رہے ہیں جو اسٹائلش بھی ہو اور پائیدار بھی؟ تو پھر انتظار ختم ہوا! دراز پر آگئی ہے سال کی سب سے بڑی ڈیل! 🛍️

🌟 پروڈکٹ کی خاصیت:

  • DTF ریفلیکٹر پرنٹ: مضبوط اور کبھی نہ ٹوٹنے والا پرنٹ جو رات کے اندھیرے میں بھی چمکتا ہے۔

  • پریمیم کوالٹی فیبرک: انتہائی نرم اور آرام دہ کپڑا، جو تپتی گرمی میں بھی آپ کو ٹھنڈک کا احساس دلائے۔

  • کثیر المقاصد: جم ہو، رننگ ہو یا دوستوں کے ساتھ آؤٹنگ—یہ ٹریک سوٹ ہر جگہ جچے گا۔

  • رنگوں کی ورائٹی: آپ کے پسندیدہ متعدد رنگوں میں دستیاب۔

💰 اصل قیمت: ~~Rs. 3,599~~ ✨ ڈسکاؤنٹ قیمت: صرف Rs. 999! (70% سے زائد بچت)

🚀 دیر نہ کریں، اسٹاک ختم ہونے سے پہلے اپنی پسند کا رنگ آرڈر کریں!

👇 ابھی خریدنے کے لیے اس لنک پر کلک کریں: https://s.daraz.pk/s.1A0AA?cc

#DarazShopping #SummerTracksuit #MensFashion #BigDiscount #TrendyWear #PakistanFashion

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

پنجاب آرازی ریکارڈ سنٹرز کے پتے اور رابطہ نمبر (ARC's) Punjab Arazi Record Centers addresses and contact numbers

  (ARC's) ارازی ریکارڈ  سنٹرز کی تفصیلات پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی (PLRA) صوبے بھر میں تحصیل سطح پر اپنے 151 اراضی ریکارڈ سنٹرز، 59 قانونگوئی آرازی ریکارڈ سینٹرز (QARC's) اور 20 موبائل اراضی ریکارڈ سینٹرز (MARC's) کے ذریعے خدمات فراہم کر رہی ہے۔ ضلع حافظ آباد اے آر سی، تحصیل حافظ آباد ڈسٹرکٹ کورٹس کمپلیکس، ضلع حافظ آباد (042)-99093000 Ext: 58310 اے آر سی، تحصیل پنڈی بھٹیاں تحصیل کمپلیکس کی نئی عمارت، نزد جوڈیشل کمپلیکس، ضلع حافظ آباد (042)-99093000 Ext: 58210 اے آر سی، تحصیل حافظ آباد ونیکی تارڑ، یونائن کونسل آفس وانکی تارڑ، ضلع حافظ آباد (042)-99093000 Ext: 58110 قانونگوئی (جالاپور بھٹیاں)  اے آر سی یونین کونسل آفس دیہی علاقہ، بند روڈ، وزیرآباد روڈ، جلال پور بھٹیاں تحصیل پنڈی بھٹیاں، ضلع حافظ آباد ضلع بہاولپور بہاولپور سٹی ، کالی پلی سٹاپ ریسکیو 1122 آفس کے قریب، ائیرپورٹ روڈ، ضلع بہاولپور (042)-99093000 Ext: 62310 بہاولپور صدر نزد بغداد الجدید پولیس اسٹیشن، ائیرپورٹ روڈ، ضلع بہاولپور (042)-99093000 Ext: 62210 اے آر سی، تحصیل حاصل پور نزد پی ٹی سی ایل ایکسچینج، ضلع ب...

رمضان 2026: سب سے چھوٹے اور طویل ترین روزے کہاں ہیں؟

رمضان 2026: سب سے چھوٹے اور طویل ترین روزے کہاں ہیں؟ دنیا بھر میں رمضان المبارک کی آمد آمد ہے اور مسلمان بدھ (18 فروری) یا جمعرات (19 فروری) کو اپنا روزہ شروع کریں گے۔ تاریخیں اس بات پر منحصر ہوتی ہیں کہ آپ دنیا کے کس حصے میں رہتے ہیں۔ رمضان اسلامی کیلنڈر کا نواں مہینہ ہے اور مسلمانوں کے لیے اس کی بے حد اہمیت ہے۔ ہر سال لاکھوں مسلمان طلوعِ آفتاب سے غروبِ آفتاب تک روزہ رکھتے ہیں۔ اسلام میں روزہ ہجری کے دوسرے سال، یعنی پیغمبر اسلام کی مکہ سے مدینہ ہجرت کے دوسرے سال فرض کیا گیا۔ اس کے بعد سے دنیا بھر کے مسلمان اس عبادت کو ادا کر رہے ہیں۔ رمضان کا آغاز قمری کیلنڈر کے مطابق ہوتا ہے، اسی لیے گریگورین کیلنڈر میں اس کی تاریخ ہر سال تقریباً 11 دن پہلے آ جاتی ہے۔ جغرافیہ روزے کی مدت کو کیسے متاثر کرتا ہے؟ دن کے اجالے کے اوقات ہر مقام پر مختلف ہوتے ہیں اور یہ خطِ استوا سے فاصلے پر منحصر ہوتے ہیں۔ اس وقت جنوبی نصف کرہ میں موسمِ گرما ہے، اس لیے: دن لمبے ہیں راتیں چھوٹی ہیں ➡️ نتیجتاً روزے طویل ہوتے ہیں جبکہ شمالی نصف کرہ میں موسمِ سرما ہے: دن چھوٹے ہیں راتیں لمبی ہیں ➡️ روزے ن...

26 زبانوں کا ماہر اور بھیس بدلنے والا جاسوس: رچرڈ برٹن کے مکہ تک خفیہ سفر کی حیرت انگیز داستان

  بیسویں صدی کے آغاز سے قبل کی دنیا آج کے مقابلے میں کہیں زیادہ پراسرار اور خطرناک تھی۔ اس دور میں مہم جوئی کا مطلب صرف سیاحت نہیں بلکہ اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر انجان وادیوں اور ممنوعہ خطوں کی خاک چھاننا تھا۔ جب ہم تاریخ کے اوراق پلٹتے ہیں، تو ایک ایسی شخصیت کا نام ابھرتا ہے جس کی زندگی کسی سنسنی خیز فلمی کہانی سے کم نہیں۔ یہ نام ہے سر رچرڈ فرانسس برٹن کا۔ رچرڈ برٹن محض ایک برطانوی فوجی یا مہم جو نہیں تھا، بلکہ وہ ایک بے مثل ماہرِ لسانیات، مترجم، جاسوس اور وہ پہلا غیر مسلم تھا جس نے کمالِ ہوشیاری سے مکہ اور مدینہ کی زیارت کی اور حجرِ اسود کو بوسہ دینے کا دعویٰ کیا۔ لسانیات کا جادوگر: 26 زبانوں پر عبور رچرڈ برٹن کی سب سے بڑی طاقت اس کی زبان دانی تھی۔ وہ ایک "پولی گلۆٹ" (Polyglot) تھا جسے نہ صرف زبانیں سیکھنے کا جنون تھا بلکہ وہ ان کے لہجوں اور ثقافتی باریکیوں کو بھی جذب کر لیتا تھا۔ زبانوں کا تنوع: برٹن کو اردو، فارسی، عربی، ہندی، سندھی، پنجابی، مرہٹی، اور کئی یورپی و افریقی زبانوں سمیت 26 زبانوں اور ان کے درجنوں لہجوں پر مکمل دسترس حاصل تھی۔ سندھ میں قیام: برٹن...