بکری چوری کا ایک مبینہ واقعہ، اور نتیجہ 48 جانوں کا ضیاع: سندھ میں خونی دشمنی کا ڈرامائی تصفیہ، جرگہ نظام ایک بار پھر کٹہرے میں
سندھ کی دھرتی، جو اپنی صوفیانہ روایات، مہمان نوازی اور محبت کی وجہ سے "باب الاسلام" کہلاتی ہے، بدقسمتی سے برسوں سے ایک ایسے ناسور کی لپیٹ میں ہے جس نے ہزاروں گھر اجاڑ دیے۔ یہ ناسور "قبائلی دشمنی" اور "خونی تصفیہ" کا ہے، جہاں معمولی تلخ کلامی یا ایک جانور کی چوری دیکھتے ہی دیکھتے خونی معرکے میں بدل جاتی ہے۔
حالیہ دنوں میں سندھ کے کچے اور پکے کے علاقوں سے ایک ایسی ہی لرزہ خیز کہانی سامنے آئی ہے، جہاں مبینہ طور پر ایک "بکری کی چوری" نے ایسی آگ بھڑکائی جس نے 48 انسانی جانوں کو نگل لیا۔ یہ محض ایک واقعہ نہیں بلکہ ہمارے معاشرے، پولیس کے نظام اور متوازی عدالتی نظام یعنی "جرگہ سسٹم" پر ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔
واقعے کا پس منظر: ایک بکری سے 48 لاشوں تک
سندھ کے اضلاع شکارپور، کشمور اور گھوٹکی میں قبائلی دشمنیاں کوئی نئی بات نہیں، لیکن اس مخصوص واقعے نے سب کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ اس خونی تنازع کی ابتدا ایک معمولی چوری سے ہوئی، جس میں ایک قبیلے نے دوسرے قبیلے پر بکری چوری کرنے کا الزام لگایا۔
عمومی طور پر ایسے معاملات بات چیت سے حل ہو سکتے تھے، لیکن انا اور "غیرت" کے جھوٹے تصور نے اسے خونی رنگ دے دیا۔ پہلے ایک قتل ہوا، پھر بدلے کی آگ میں دوسرا، اور پھر یہ سلسلہ رکنے کا نام نہ لے سکا۔ دیکھتے ہی دیکھتے دونوں قبائل مورچہ بند ہو گئے اور جدید ہتھیاروں (راکٹ لانچرز اور اینٹی ایئر کرافٹ گنز) کا استعمال شروع ہو گیا۔
خونی تصادم کے اثرات
انسانی جانوں کا زیاں: 48 افراد، جن میں جوان، بوڑھے اور بعض مقامات پر معصوم بچے بھی شامل تھے، اس دشمنی کی بھینٹ چڑھ گئے۔
معاشی تباہی: جن خاندانوں کے کفیل مارے گئے، وہ کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہو گئے۔
تعلیم کا حرج: کچے کے علاقوں میں دشمنی کے خوف سے سکول بند ہو گئے اور ایک پوری نسل قلم کے بجائے کلاشنکوف تھامنے پر مجبور ہو گئی۔
جرگہ سسٹم: انصاف یا طاقت کا کھیل؟
جب ریاست کا قانون (پولیس اور عدالتیں) بروقت انصاف فراہم کرنے میں ناکام ہو جاتا ہے، تو قبائلی سردار اور وڈیرے "جرگہ" یا "فیصلہ" کی صورت میں سامنے آتے ہیں۔ اس 48 ہلاکتوں والے واقعے میں بھی بالآخر ایک بڑے جرگے کا انعقاد کیا گیا تاکہ "خون بہا" (دیت) کے ذریعے معاملے کو ٹھنڈا کیا جا سکے۔
جرگے کے طریقہ کار پر تنقید
جرگہ سسٹم پر انسانی حقوق کی تنظیموں اور قانونی ماہرین کی جانب سے ہمیشہ کڑی تنقید کی جاتی رہی ہے۔ اس کی چند بڑی وجوہات درج ذیل ہیں:
عدم مساوات: جرگے میں اکثر فیصلہ طاقتور قبیلے یا بااثر شخصیت کے حق میں ہوتا ہے۔ غریب فریق کو انصاف کے بجائے "تصفیہ" پر مجبور کیا جاتا ہے۔
خون کی قیمت: جرگہ سسٹم میں انسانی جان کی قیمت پیسوں (خون بہا) میں لگائی جاتی ہے۔ اس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ اگر آپ کے پاس پیسہ ہے، تو آپ قتل کر کے جرمانہ بھر کر آزاد ہو سکتے ہیں۔
خواتین کا استحصال: ماضی میں کئی جرگوں میں "سنگ چٹی" (لڑکیوں کو بدلے میں دینا) جیسی جاہلانہ رسمیں اپنائی جاتی رہی ہیں، جو کہ سراسر غیر انسانی ہے۔
ریاست کی خاموشی اور پولیس کا کردار
سندھ میں جب بھی کوئی بڑا قبائلی تصادم ہوتا ہے، تو پہلا سوال پولیس پر اٹھتا ہے۔ کچے کے علاقوں میں پولیس کی رسائی محدود ہے یا پھر جان بوجھ کر بعض بااثر سیاسی شخصیات کے دباؤ میں آ کر پولیس مداخلت نہیں کرتی۔
48 ہلاکتوں کے اس طویل سلسلے کے دوران ریاست خاموش تماشائی بنی رہی۔ جب لاشوں کے ڈھیر لگ گئے، تب جا کر انتظامیہ کی نیند ٹوٹی۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ریاست کے اندر ایک اور ریاست (سرداروں کی حکومت) کو کام کرنے کی اجازت دی جا سکتی ہے؟ سپریم کورٹ آف پاکستان نے جرگوں کو غیر قانونی قرار دے رکھا ہے، اس کے باوجود یہ اعلانیہ منعقد ہوتے ہیں اور سرکاری عہدیدار ان میں شرکت کرتے ہیں۔
معاشرتی اور نفسیاتی پہلو
یہ واقعہ صرف انتظامیہ کی ناکامی نہیں بلکہ ہمارے معاشرتی رویوں کا بھی عکاس ہے۔ ایک بکری کی خاطر 48 انسانوں کا قتل اس بات کی دلیل ہے کہ معاشرے میں برداشت ختم ہو چکی ہے۔
قبائلی عصبیت: لوگ اپنے قبیلے کے نام پر مرنے مارنے کو تیار ہیں، لیکن انسانیت کے نام پر معاف کرنے کو تیار نہیں۔
ہتھیاروں کی فراوانی: کچے کے علاقوں میں جدید ہتھیاروں کی دستیابی نے ان تنازعات کو مزید مہلک بنا دیا ہے۔ اب یہ لڑائیاں لاٹھیوں سے نہیں بلکہ جی تھری اور کلاشنکوف سے لڑی جاتی ہیں۔
حل کی طرف: ہمیں کیا کرنے کی ضرورت ہے؟
اگر ہم چاہتے ہیں کہ سندھ کی دھرتی پر مزید خون نہ بہے، تو ہمیں روایتی طریقوں سے ہٹ کر ٹھوس اقدامات کرنے ہوں گے:
1. قانون کی حکمرانی
ریاست کو اپنی رٹ قائم کرنی ہوگی۔ قتل چاہے قبائلی دشمنی میں ہو یا انفرادی، اسے صرف "جرم" کے طور پر دیکھا جانا چاہیے نہ کہ "قبائلی مسئلہ"۔ پولیس کو سیاسی اثر و رسوخ سے آزاد کر کے کچے کے علاقوں میں جدید چوکیوں کا قیام عمل میں لانا چاہیے۔
2. جرگہ سسٹم کا خاتمہ اور عدالتی اصلاحات
متوازی عدالتی نظام کو مکمل طور پر ختم کرنا ہوگا۔ تاہم، اس کے لیے ضروری ہے کہ سرکاری عدالتوں میں کیسز کا فیصلہ مہینوں اور سالوں کے بجائے ہفتوں میں ہو۔ جب لوگوں کو عدالت سے انصاف نہیں ملتا، تو وہ مجبورا سرداروں کے پاس جاتے ہیں۔
3. تعلیم اور شعور کی بیداری
سندھ کے پسماندہ اضلاع میں تعلیم عام کرنے کی ضرورت ہے۔ جب تک نوجوانوں کو شعور نہیں ملے گا، وہ سرداروں کے مفاد کی جنگ میں ایندھن بنتے رہیں گے۔ سول سوسائٹی اور علماء کرام کو "قتلِ ناحق" کے خلاف مہم چلانی چاہیے۔
4. ہتھیاروں کی بیخ کنی
کچے کے علاقوں کو اسلحہ سے پاک کرنا (De-weaponization) ناگزیر ہے۔ جب تک ہر دوسرے گھر میں راکٹ لانچر موجود ہوگا، امن کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔
نتیجہ فکر
بکری چوری کا یہ مبینہ واقعہ اور اس کے نتیجے میں ہونے والی 48 ہلاکتیں ہم سب کے لیے ایک لمحہ فکریہ ہیں۔ کیا ایک جانور کی قیمت انسانی جان سے بڑھ کر ہے؟ کیا ہم آج بھی پتھر کے دور میں رہ رہے ہیں جہاں طاقت ہی حق ہے؟
سندھ کے عوام امن چاہتے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ ان کے بچے گولیوں کی تھرتھراہٹ میں نہیں بلکہ سکول کی گھنٹی کی آواز میں پروان چڑھیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ سندھ کے دانشور، سیاستدان اور مقتدر حلقے اس "خونی تصفیہ" کی روایت کو ہمیشہ کے لیے دفن کر دیں اور ایک ایسے معاشرے کی بنیاد رکھیں جہاں بکری چوری ہونے پر پولیس اسٹیشن جایا جائے، نہ کہ مورچے سنبھالے جائیں۔
خون تو خون ہے، گرے گا تو جم جائے گا۔۔۔ اب اس بہتے خون کو روکنا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں