نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

وزارت داخلہ نے پٹرول پمپ، ڈرائیورز ہوٹل کھولنے کیلئے پولیس کو مراسلہ جاری کردیا

وزارت داخلہ نے پٹرول پمپ، ڈرائیورز ہوٹل کھولنے کیلئے 

پولیس کو مراسلہ جاری کردیا

LDA auctions 18 petrol pumps for Rs332 million - Pakistan Today

قومی اور صوبائی شاہراہوں پر آٹوورکشاپس، سپیئرپارٹس کی دکانیں کھلی رہیں گی۔ نوٹیفکیشن جاری پٹرول پمپ ، ڈرائیورز ہوٹل کھولنے کیلئے پولیس کو مراسلہ جاری کردیا گیا ، تفصیلات کے مطابق وزارت داخلہ کی جانب سے پولیس کو مراسلہ جاری کیا گیاہے کہ پیٹرول پمپ اور ڈرائیورز ہوٹلز کو بند نہ کرایا جائے۔ قومی اور صوبائی شاہراہوں پر آٹوورکشاپس ، ڈرائیورز ہوٹل اور سپیئرپارٹس کی دکانیں کھولی رہیں گی۔

  وزیراعظم کی جانب سے سفری اجازت دینے کے بعد محکمہ داخلہ کی جانب سے آئی جی پنجاب کو مراسلہ جاری کردیا گیا ہے۔مراسلہ میں لکھا گیا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کی ہدایات کے مطابق ہائی وے پر مسافروں کو سہولیات فراہم کی جائیں۔ محکمہ داخلہ پنجاب کی جانب سے ایک نوٹی فیکشن جاری کیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ کم اسٹاف اورحفاظتی انتظامات کے ساتھ بڑی صٓنعتوں کو کھولنے کی اجازت ہوگی۔
بڑی صنعتیں اپنا کام جاری رکھ سکتی ہیں۔ نوٹیکیشن میں کہا گیا ہے کہ لیدرسرجیکل اور طبی آلات بنانے والی صعنتیں بھی کام شروع کر سکتیں ہیں۔ جبکہ ٹیکسٹائل، سپورٹس اور فارما انڈسٹری کوبھی کام کرنے کی اجازت ہے۔ واضح رہے پنجاب حکومت کی جانب سے 23 مار کو 14روز کیلئے لاک ڈاؤن کا فیصلہ کیا گیا تھا ، لاک ڈاؤن کے دوران میڈیکل اسٹورز، اشیائے خوردونوش کی دکانیں کھلی رہیں ،جبکہ شاپنگ مالز بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا تھا ۔
تاہم اس کو پنجاب میں کسی قسم کا لاک ڈاؤن یا کرفیو نہ سمجھا جائے۔ عوام سے اپیل ہے کہ اس دوران مکمل تعاون کیا جائے۔ تاہم اب حکومت پنجاب کی جانب سے بڑی صنعتیں کھولنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔جبکہ محکمہ داخلہ پنجاب کی جانب سے نوٹی فیکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔ بڑی صنعتیں اپنا کام جاری رکھ سکتی ہیں۔ لیدرسرجیکل اور طبی آلات بنانے والی صعنتیں بھی کام شروع کر سکتیں ہیں

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

پنجاب آرازی ریکارڈ سنٹرز کے پتے اور رابطہ نمبر (ARC's) Punjab Arazi Record Centers addresses and contact numbers

  (ARC's) ارازی ریکارڈ  سنٹرز کی تفصیلات پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی (PLRA) صوبے بھر میں تحصیل سطح پر اپنے 151 اراضی ریکارڈ سنٹرز، 59 قانونگوئی آرازی ریکارڈ سینٹرز (QARC's) اور 20 موبائل اراضی ریکارڈ سینٹرز (MARC's) کے ذریعے خدمات فراہم کر رہی ہے۔ ضلع حافظ آباد اے آر سی، تحصیل حافظ آباد ڈسٹرکٹ کورٹس کمپلیکس، ضلع حافظ آباد (042)-99093000 Ext: 58310 اے آر سی، تحصیل پنڈی بھٹیاں تحصیل کمپلیکس کی نئی عمارت، نزد جوڈیشل کمپلیکس، ضلع حافظ آباد (042)-99093000 Ext: 58210 اے آر سی، تحصیل حافظ آباد ونیکی تارڑ، یونائن کونسل آفس وانکی تارڑ، ضلع حافظ آباد (042)-99093000 Ext: 58110 قانونگوئی (جالاپور بھٹیاں)  اے آر سی یونین کونسل آفس دیہی علاقہ، بند روڈ، وزیرآباد روڈ، جلال پور بھٹیاں تحصیل پنڈی بھٹیاں، ضلع حافظ آباد ضلع بہاولپور بہاولپور سٹی ، کالی پلی سٹاپ ریسکیو 1122 آفس کے قریب، ائیرپورٹ روڈ، ضلع بہاولپور (042)-99093000 Ext: 62310 بہاولپور صدر نزد بغداد الجدید پولیس اسٹیشن، ائیرپورٹ روڈ، ضلع بہاولپور (042)-99093000 Ext: 62210 اے آر سی، تحصیل حاصل پور نزد پی ٹی سی ایل ایکسچینج، ضلع ب...

رمضان 2026: سب سے چھوٹے اور طویل ترین روزے کہاں ہیں؟

رمضان 2026: سب سے چھوٹے اور طویل ترین روزے کہاں ہیں؟ دنیا بھر میں رمضان المبارک کی آمد آمد ہے اور مسلمان بدھ (18 فروری) یا جمعرات (19 فروری) کو اپنا روزہ شروع کریں گے۔ تاریخیں اس بات پر منحصر ہوتی ہیں کہ آپ دنیا کے کس حصے میں رہتے ہیں۔ رمضان اسلامی کیلنڈر کا نواں مہینہ ہے اور مسلمانوں کے لیے اس کی بے حد اہمیت ہے۔ ہر سال لاکھوں مسلمان طلوعِ آفتاب سے غروبِ آفتاب تک روزہ رکھتے ہیں۔ اسلام میں روزہ ہجری کے دوسرے سال، یعنی پیغمبر اسلام کی مکہ سے مدینہ ہجرت کے دوسرے سال فرض کیا گیا۔ اس کے بعد سے دنیا بھر کے مسلمان اس عبادت کو ادا کر رہے ہیں۔ رمضان کا آغاز قمری کیلنڈر کے مطابق ہوتا ہے، اسی لیے گریگورین کیلنڈر میں اس کی تاریخ ہر سال تقریباً 11 دن پہلے آ جاتی ہے۔ جغرافیہ روزے کی مدت کو کیسے متاثر کرتا ہے؟ دن کے اجالے کے اوقات ہر مقام پر مختلف ہوتے ہیں اور یہ خطِ استوا سے فاصلے پر منحصر ہوتے ہیں۔ اس وقت جنوبی نصف کرہ میں موسمِ گرما ہے، اس لیے: دن لمبے ہیں راتیں چھوٹی ہیں ➡️ نتیجتاً روزے طویل ہوتے ہیں جبکہ شمالی نصف کرہ میں موسمِ سرما ہے: دن چھوٹے ہیں راتیں لمبی ہیں ➡️ روزے ن...

بناسپتی برانڈ ’ڈالڈا‘ کے مالک بشیر جان: اکاؤنٹنٹ سے ارب پتی بننے تک کا غیر معمولی سفر

پاکستان میں خوردنی تیل کی صنعت ایک بہت بڑی اور منافع بخش مارکیٹ بن چکی ہے، اور اس شعبے کا سب سے نمایاں اور طاقتور نام ایک ایسے شخص سے جڑا ہے جو نہ کسی روایتی سیٹھ گھرانے سے تعلق رکھتا ہے اور نہ ہی اس کا پس منظر کسی بڑے کاروباری خاندان سے ملتا ہے۔ یہ کہانی ہے بشیر جان محمد کی، جنہوں نے ایک عام اکاؤنٹنٹ کے طور پر کیریئر کا آغاز کیا اور بالآخر پاکستان کے ارب پتی کاروباری شخصیات میں شمار ہونے لگے۔ یہ ایک حیران کن حقیقت ہے کہ پاکستان میں خوردنی تیل کے کاروبار میں سب سے بڑا نام بننے والے بشیر جان محمد نے ابتدا میں کبھی بڑے کاروباری خواب نہیں دیکھے تھے۔ ان کی پیشہ ورانہ زندگی کا آغاز اکاؤنٹس ڈیپارٹمنٹ سے ہوا، مگر مستقل مزاجی، درست فیصلوں اور وقت پر ملنے والے مواقع نے ان کی زندگی کا رخ ہمیشہ کے لیے بدل دیا۔ ہجرت، جدوجہد اور نئی زندگی کا آغاز بشیر جان محمد کی پیدائش بھارت کے صوبہ گجرات کے ایک چھوٹے سے شہر بانٹوا میں ہوئی۔ قیام پاکستان کے بعد ان کا خاندان گجرات چھوڑ کر کراچی منتقل ہوا۔ تقسیم ہند کا وہ دور شدید بدامنی اور خوف سے بھرا ہوا تھا۔ بشیر جان کے مطابق، ان کے خاندان کو آخری لمحوں میں ...