نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

ذخیرہ اندوزو ں کی شرعی سزا کیا ہے

علماء نے بڑا فتویٰ جاری کر کے حکومت کو راہ دکھا دی



Islamic scholars in Pakistan push for hate speech ban - CSMonitor.comPakistani cleric recovering in Saudi hospital | Arab News PK



پاکستان علماء کونسل کے مرکزی چیئرمین اور صدر وفاق المساجد و المدارس پاکستان حافظ محمد طاہر محمود اشرفی ، مولانا اسد زکریا قاسمی ، علامہ عبد الحق مجاہد ، مولانا مفتی محمد عمر فاروق ، مولانا مفتی محمد ضیاء مدنی ، مولانا مفتی حفیظ الرحمن ، مولانا نعمان حاشر ، مولانا محمد شفیع قاسمی ، علامہ طاہر الحسن ، مولانا اسد اللہ فاروق ، علامہ زبیر عابد، مولانا حسین احمد درخواستی اور دیگر اکابر علماء و مشائخ کی طرف سے جاری کردہ فتویٰ میں کہا گیا ہے کہ ذخیرہ اندوزی اور عوام الناس کے استعمال کی چیزوں کا ذخیرہ کرنا شرعی طور پر نا جائز ہے اور ذخیرہ اندوزی کرنے والے سے اللہ اور اللہ کے نبی ﷺ نے بیزاری کا اعلان کیا ہے،احادیث مبارکہ میں ذخیرہ اندوزی کرنے والے کو ملعون قرار دیا گیا ہے اور حضرت عمرؓ سے ایک روایت کے مطابق رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے کہ جس نے مسلمانوں کے خلاف غذائی اجناس کی ذخیرہ اندوزی کی اللہ کریم اس پر غربت افلاس اور جذام کی بیماری کو مسلط کر دیں گے۔ملک گیر لاک ڈاون کی وجہ سے عوام الناس اضطراب کا شکار ہیں، ایسی صورتحال میں ذخیرہ اندوز اور ناجائز منافع خور اشیائے ضروریہ کو مارکیٹ سے غائب کرکے معاشرے میں افراتفری پھیلانے کی کوشش کررہے ہیں ایسے عناصر ناصرف ملک و قوم کے لئے پریشانی کا باعث بن رہے ہیں بلکہ اللہ کے عذاب کو بھی دعوت دے رہے ہیں
اس ناگہانی صورتحال میں خوراک اوردیگر اشیائے ضروریہ مخلوق خداکی پہنچ سے دورکرنا اور ناجائز منافع کمانے کی غرض سے عوام کو مزید تکلیف اور قحط میں مبتلا کرنا شرعاً ناجائز اور حرام ہے شریعت نے اس کی مذمت بیان کی ہے اور اس قابل نفرت فعل میں مبتلا ہونے والا شخص شریعت کی نظر میں انتہائی نا پسندیدہ ہے۔ علماء و مشائخ نے کہا کہ کرونا وباء کی وجہ سے ایک طرف حکومت ،عوام اور ریاستی ادارے پریشان ہیں، لاک ڈاون کی وجہ سے ملک کی ایک بڑی آبادی بےروزگاری کا شکار ہوچکی ہے،جن کےپاس دو وقت کی روٹی کے لئے بھی وسائل نہیں ایسے حالات میں منافع کمانے کی غرض سے خوراک،دیگر اشیائے ضروریہ اور ادویات مارکیٹ سے غائب کرنا حرام ہے

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

پنجاب آرازی ریکارڈ سنٹرز کے پتے اور رابطہ نمبر (ARC's) Punjab Arazi Record Centers addresses and contact numbers

  (ARC's) ارازی ریکارڈ  سنٹرز کی تفصیلات پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی (PLRA) صوبے بھر میں تحصیل سطح پر اپنے 151 اراضی ریکارڈ سنٹرز، 59 قانونگوئی آرازی ریکارڈ سینٹرز (QARC's) اور 20 موبائل اراضی ریکارڈ سینٹرز (MARC's) کے ذریعے خدمات فراہم کر رہی ہے۔ ضلع حافظ آباد اے آر سی، تحصیل حافظ آباد ڈسٹرکٹ کورٹس کمپلیکس، ضلع حافظ آباد (042)-99093000 Ext: 58310 اے آر سی، تحصیل پنڈی بھٹیاں تحصیل کمپلیکس کی نئی عمارت، نزد جوڈیشل کمپلیکس، ضلع حافظ آباد (042)-99093000 Ext: 58210 اے آر سی، تحصیل حافظ آباد ونیکی تارڑ، یونائن کونسل آفس وانکی تارڑ، ضلع حافظ آباد (042)-99093000 Ext: 58110 قانونگوئی (جالاپور بھٹیاں)  اے آر سی یونین کونسل آفس دیہی علاقہ، بند روڈ، وزیرآباد روڈ، جلال پور بھٹیاں تحصیل پنڈی بھٹیاں، ضلع حافظ آباد ضلع بہاولپور بہاولپور سٹی ، کالی پلی سٹاپ ریسکیو 1122 آفس کے قریب، ائیرپورٹ روڈ، ضلع بہاولپور (042)-99093000 Ext: 62310 بہاولپور صدر نزد بغداد الجدید پولیس اسٹیشن، ائیرپورٹ روڈ، ضلع بہاولپور (042)-99093000 Ext: 62210 اے آر سی، تحصیل حاصل پور نزد پی ٹی سی ایل ایکسچینج، ضلع ب...

رمضان 2026: سب سے چھوٹے اور طویل ترین روزے کہاں ہیں؟

رمضان 2026: سب سے چھوٹے اور طویل ترین روزے کہاں ہیں؟ دنیا بھر میں رمضان المبارک کی آمد آمد ہے اور مسلمان بدھ (18 فروری) یا جمعرات (19 فروری) کو اپنا روزہ شروع کریں گے۔ تاریخیں اس بات پر منحصر ہوتی ہیں کہ آپ دنیا کے کس حصے میں رہتے ہیں۔ رمضان اسلامی کیلنڈر کا نواں مہینہ ہے اور مسلمانوں کے لیے اس کی بے حد اہمیت ہے۔ ہر سال لاکھوں مسلمان طلوعِ آفتاب سے غروبِ آفتاب تک روزہ رکھتے ہیں۔ اسلام میں روزہ ہجری کے دوسرے سال، یعنی پیغمبر اسلام کی مکہ سے مدینہ ہجرت کے دوسرے سال فرض کیا گیا۔ اس کے بعد سے دنیا بھر کے مسلمان اس عبادت کو ادا کر رہے ہیں۔ رمضان کا آغاز قمری کیلنڈر کے مطابق ہوتا ہے، اسی لیے گریگورین کیلنڈر میں اس کی تاریخ ہر سال تقریباً 11 دن پہلے آ جاتی ہے۔ جغرافیہ روزے کی مدت کو کیسے متاثر کرتا ہے؟ دن کے اجالے کے اوقات ہر مقام پر مختلف ہوتے ہیں اور یہ خطِ استوا سے فاصلے پر منحصر ہوتے ہیں۔ اس وقت جنوبی نصف کرہ میں موسمِ گرما ہے، اس لیے: دن لمبے ہیں راتیں چھوٹی ہیں ➡️ نتیجتاً روزے طویل ہوتے ہیں جبکہ شمالی نصف کرہ میں موسمِ سرما ہے: دن چھوٹے ہیں راتیں لمبی ہیں ➡️ روزے ن...

بناسپتی برانڈ ’ڈالڈا‘ کے مالک بشیر جان: اکاؤنٹنٹ سے ارب پتی بننے تک کا غیر معمولی سفر

پاکستان میں خوردنی تیل کی صنعت ایک بہت بڑی اور منافع بخش مارکیٹ بن چکی ہے، اور اس شعبے کا سب سے نمایاں اور طاقتور نام ایک ایسے شخص سے جڑا ہے جو نہ کسی روایتی سیٹھ گھرانے سے تعلق رکھتا ہے اور نہ ہی اس کا پس منظر کسی بڑے کاروباری خاندان سے ملتا ہے۔ یہ کہانی ہے بشیر جان محمد کی، جنہوں نے ایک عام اکاؤنٹنٹ کے طور پر کیریئر کا آغاز کیا اور بالآخر پاکستان کے ارب پتی کاروباری شخصیات میں شمار ہونے لگے۔ یہ ایک حیران کن حقیقت ہے کہ پاکستان میں خوردنی تیل کے کاروبار میں سب سے بڑا نام بننے والے بشیر جان محمد نے ابتدا میں کبھی بڑے کاروباری خواب نہیں دیکھے تھے۔ ان کی پیشہ ورانہ زندگی کا آغاز اکاؤنٹس ڈیپارٹمنٹ سے ہوا، مگر مستقل مزاجی، درست فیصلوں اور وقت پر ملنے والے مواقع نے ان کی زندگی کا رخ ہمیشہ کے لیے بدل دیا۔ ہجرت، جدوجہد اور نئی زندگی کا آغاز بشیر جان محمد کی پیدائش بھارت کے صوبہ گجرات کے ایک چھوٹے سے شہر بانٹوا میں ہوئی۔ قیام پاکستان کے بعد ان کا خاندان گجرات چھوڑ کر کراچی منتقل ہوا۔ تقسیم ہند کا وہ دور شدید بدامنی اور خوف سے بھرا ہوا تھا۔ بشیر جان کے مطابق، ان کے خاندان کو آخری لمحوں میں ...