نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

سٹیٹ بنک آف پاکستان نے کرنسی نوٹ ’قرنطینہ‘ کرنے کا حکم دے دیا

کورونا وائرس: سٹیٹ بنک آف پاکستان نے کرنسی نوٹ قرنطینہ کرنے کا حکم دے دیا

Image result for pakistani currency







کون ہے جسے رو مرہ زندگی میں نوٹ نہیں گننا پڑتے۔ امیر و غریب ہو یا بزرگ، نوجوان یا بچے سب روز مرہ زندگی میں نوٹوں کو چھوتے ہیں۔ تاہم کورونا وائرس سے پھیلنے والی وبا کے باعث نوٹوں کو سونگھنے یا انہیں گننے کے کام سے اس وبا سے متاثر ہونے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔
اس خطرے کو کم کرنے کے لیے اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے بھی بینکوں کو اپنے صارفین کو ایسے کرنسی نوٹ جاری کرنے کی ہدایات دی گئی ہیں جنہیں باقاعدگی سے قرنطینہ میں رکھا گیا ہو ۔ ان کرنسی نوٹوں میں خاص کر وہ نوٹ شامل ہیں جو مختلف ہسپتالوں سے بینکوں میں جمع کرائے جا رہے ہیں
یا کرنسی نوٹوں سے کورونا وائرس پھیل سکتا ہے۔ اس سلسلے میں طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ کرنسی نوٹوں کے ذریعے اس کے پھیلنے کے امکانات بالکل موجود ہیں۔
ماہر متعدی امراض اور ایک لیبارٹری کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر فرحان عیسیٰ عبداللہ کرنسی نوٹوں کے ذریعے کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے بارے میں کہتے ہیں کہ یہ وائرس پلاسٹک اور کاغذ پر کچھ دن زندہ رہتا ہے۔ ان کے مطابق کاغذ پر اس وائرس کے زندہ رہنے کا دورانیہ ایک سے دو دن ہو سکتا ہے اگر اس کاغذ پر سورج کی روشنی براہ راست پڑ رہی ہو ۔
انہوں نے کہا کہ کرنسی نوٹ کیونکہ جیب، گلک یا تجوری میں ہوتے ہیں اس لیے ان میں اگر وائرس موجود ہو تو اس کے زندہ رہنےکا دورانیہ زیادہ ہو سکتا ہے۔
سندھ سروسز ہسپتال میں کام کرنے والے ماہر امراض سینہ اور پبلک ہیلتھ ایکسپرٹ ڈاکٹر سلیمان اوٹھو نے اس بارے میں بتایا کہ سٹیٹ بینک سے جب نوٹ ایک بار چھپ کر نکلتے ہیں تو ان کے تلف ہونے تک وہ اتنے ہاتھوں سے گزرتے ہیں کہ ان پر مختلف جراثیم کی موجودگی کے بارے میں مختلف سٹیڈیز شائع ہو چکی ہیں۔
کورونا وائرس کی کرنسی نوٹوں کے ذریعے منتقلی کے بارے میں ڈاکٹر اوٹھو کا کہنا تھا کہ اس کے مکانات موجود ہیں کہ کسی متاثرہ شخص کے استعمال میں رہنے والے نوٹ اس وائرس کو مزید پھیلانے کا سبب بن سکتے ہیں۔
کرنسی نوٹوں کے ذریعے اس وائرس کے پھیلاؤ کو کے سدباب کے لیے سٹیٹ بینک آف پاکستان نے ملک میں کام کرنے والے تمام بینکوں کو ہدایات جاری کی ہیں جن میں دوسری احتیاطی تدابیر کے ساتھ ساتھ کرنسی نوٹوں کے بارے میں بھی ہدایات درج ہیں۔
بینکوں کو خاص کر ہسپتالوں سے وصول ہونے والے کرنسی نوٹوں کو احتیاط کے ساتھ برتنے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں اور یہاں سے وصول ہونے والے کرنسی نوٹوں کو قرنطینہ میں رکھنے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔
بینکنگ کے شعبے سے وابستہ افراد کے مطابق نوٹوں کو قرنطینہ میں رکھنے سے مراد یہ ہے کہ ایسے نوٹوں کو مناسب انداز میں پیکٹوں میں باندھ کر ان پر اسپرے کر کے انہیں سیل کر کے کچھ عرصے کے لیے الگ رکھ دیا جائے۔ بینکوں کو قرنطینہ میں رکھے جانے والوں کرنسی نوٹوں کے بارے میں سٹیٹ بنک آف پاکستان کو مطلع کرنا پڑے گا جو ان نوٹوں کے بدلے میں نئے نوٹ چھاپ کر ان بینکوں کے حوالے کرے گا۔
مرکزی بینک نے بینکوں کو ہسپتالوں کے اکاؤنٹ میں جمع ہونے والے کرنسی نوٹوں کے ساتھ ساتھ دوسرے اکاؤنٹس کے جمع ہونے والے کرنسی نوٹوں کے بارے میں بھی احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کا کہا گیا ہے۔
یاد رہے کہ بینکوں کی جانب سے قرنطینہ میں رکھے گئے کرنسی نوٹوں کی کل رقم کے بارے میں اسٹیٹ بینک کو آگاہ کرنا پڑے گا جو اسٹیٹ بنک کی ملکیت ہوں گے اور اس کے بدلے مرکزی بینک نئے نوٹ چھاپ کر بینکوں کو جاری کرے گا۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

پنجاب آرازی ریکارڈ سنٹرز کے پتے اور رابطہ نمبر (ARC's) Punjab Arazi Record Centers addresses and contact numbers

  (ARC's) ارازی ریکارڈ  سنٹرز کی تفصیلات پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی (PLRA) صوبے بھر میں تحصیل سطح پر اپنے 151 اراضی ریکارڈ سنٹرز، 59 قانونگوئی آرازی ریکارڈ سینٹرز (QARC's) اور 20 موبائل اراضی ریکارڈ سینٹرز (MARC's) کے ذریعے خدمات فراہم کر رہی ہے۔ ضلع حافظ آباد اے آر سی، تحصیل حافظ آباد ڈسٹرکٹ کورٹس کمپلیکس، ضلع حافظ آباد (042)-99093000 Ext: 58310 اے آر سی، تحصیل پنڈی بھٹیاں تحصیل کمپلیکس کی نئی عمارت، نزد جوڈیشل کمپلیکس، ضلع حافظ آباد (042)-99093000 Ext: 58210 اے آر سی، تحصیل حافظ آباد ونیکی تارڑ، یونائن کونسل آفس وانکی تارڑ، ضلع حافظ آباد (042)-99093000 Ext: 58110 قانونگوئی (جالاپور بھٹیاں)  اے آر سی یونین کونسل آفس دیہی علاقہ، بند روڈ، وزیرآباد روڈ، جلال پور بھٹیاں تحصیل پنڈی بھٹیاں، ضلع حافظ آباد ضلع بہاولپور بہاولپور سٹی ، کالی پلی سٹاپ ریسکیو 1122 آفس کے قریب، ائیرپورٹ روڈ، ضلع بہاولپور (042)-99093000 Ext: 62310 بہاولپور صدر نزد بغداد الجدید پولیس اسٹیشن، ائیرپورٹ روڈ، ضلع بہاولپور (042)-99093000 Ext: 62210 اے آر سی، تحصیل حاصل پور نزد پی ٹی سی ایل ایکسچینج، ضلع ب...

رمضان 2026: سب سے چھوٹے اور طویل ترین روزے کہاں ہیں؟

رمضان 2026: سب سے چھوٹے اور طویل ترین روزے کہاں ہیں؟ دنیا بھر میں رمضان المبارک کی آمد آمد ہے اور مسلمان بدھ (18 فروری) یا جمعرات (19 فروری) کو اپنا روزہ شروع کریں گے۔ تاریخیں اس بات پر منحصر ہوتی ہیں کہ آپ دنیا کے کس حصے میں رہتے ہیں۔ رمضان اسلامی کیلنڈر کا نواں مہینہ ہے اور مسلمانوں کے لیے اس کی بے حد اہمیت ہے۔ ہر سال لاکھوں مسلمان طلوعِ آفتاب سے غروبِ آفتاب تک روزہ رکھتے ہیں۔ اسلام میں روزہ ہجری کے دوسرے سال، یعنی پیغمبر اسلام کی مکہ سے مدینہ ہجرت کے دوسرے سال فرض کیا گیا۔ اس کے بعد سے دنیا بھر کے مسلمان اس عبادت کو ادا کر رہے ہیں۔ رمضان کا آغاز قمری کیلنڈر کے مطابق ہوتا ہے، اسی لیے گریگورین کیلنڈر میں اس کی تاریخ ہر سال تقریباً 11 دن پہلے آ جاتی ہے۔ جغرافیہ روزے کی مدت کو کیسے متاثر کرتا ہے؟ دن کے اجالے کے اوقات ہر مقام پر مختلف ہوتے ہیں اور یہ خطِ استوا سے فاصلے پر منحصر ہوتے ہیں۔ اس وقت جنوبی نصف کرہ میں موسمِ گرما ہے، اس لیے: دن لمبے ہیں راتیں چھوٹی ہیں ➡️ نتیجتاً روزے طویل ہوتے ہیں جبکہ شمالی نصف کرہ میں موسمِ سرما ہے: دن چھوٹے ہیں راتیں لمبی ہیں ➡️ روزے ن...

بناسپتی برانڈ ’ڈالڈا‘ کے مالک بشیر جان: اکاؤنٹنٹ سے ارب پتی بننے تک کا غیر معمولی سفر

پاکستان میں خوردنی تیل کی صنعت ایک بہت بڑی اور منافع بخش مارکیٹ بن چکی ہے، اور اس شعبے کا سب سے نمایاں اور طاقتور نام ایک ایسے شخص سے جڑا ہے جو نہ کسی روایتی سیٹھ گھرانے سے تعلق رکھتا ہے اور نہ ہی اس کا پس منظر کسی بڑے کاروباری خاندان سے ملتا ہے۔ یہ کہانی ہے بشیر جان محمد کی، جنہوں نے ایک عام اکاؤنٹنٹ کے طور پر کیریئر کا آغاز کیا اور بالآخر پاکستان کے ارب پتی کاروباری شخصیات میں شمار ہونے لگے۔ یہ ایک حیران کن حقیقت ہے کہ پاکستان میں خوردنی تیل کے کاروبار میں سب سے بڑا نام بننے والے بشیر جان محمد نے ابتدا میں کبھی بڑے کاروباری خواب نہیں دیکھے تھے۔ ان کی پیشہ ورانہ زندگی کا آغاز اکاؤنٹس ڈیپارٹمنٹ سے ہوا، مگر مستقل مزاجی، درست فیصلوں اور وقت پر ملنے والے مواقع نے ان کی زندگی کا رخ ہمیشہ کے لیے بدل دیا۔ ہجرت، جدوجہد اور نئی زندگی کا آغاز بشیر جان محمد کی پیدائش بھارت کے صوبہ گجرات کے ایک چھوٹے سے شہر بانٹوا میں ہوئی۔ قیام پاکستان کے بعد ان کا خاندان گجرات چھوڑ کر کراچی منتقل ہوا۔ تقسیم ہند کا وہ دور شدید بدامنی اور خوف سے بھرا ہوا تھا۔ بشیر جان کے مطابق، ان کے خاندان کو آخری لمحوں میں ...